معرفت الہیہ |
§س کتاب ک |
|
طور پہاڑ کی ظاہر سطح پر جب نورِصمد نے تجلّی فرمائی تو وہ پارہ پارہ ہوگیا، تاکہ اس کے باطن میں بھی نور داخل ہوجائے ؎ گُرسنہ چوں برکفش زد قرصِ ناں واشگا فد از ہوس چشم و دہاں جیسے گرسنہ یعنی بھوکے کے ہاتھ پر جب قرصِ نان یعنی روٹی لگتی ہے تو وہ ہوس سے آنکھ اور منہ بھی پھاڑ دیتا ہے۔ یہی حالت طور کی ہوگئی کہ گویا منہ پھاڑ دیا کہ غذائے نور جس طرح اس کے ہاتھ یعنی ظاہر پر رکھی گئی ہے اسی طرح اس کے منہ یعنی باطن میں بھی پہنچادی جائے ؎ صد ہزاراں پارہ گشتن از ز دیں ازمیانِ چرخ بر خیز اے زمیں پس جس طرح طور نے حصولِ نور فی الباطن کے لیے اپنے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا، یعنی فنائے صورت کو گوارا کرلیا، تو بھی اپنے جسم کی پروا نہ کر اور اس نورِ حقیقی کو حاصل کرنے کے لیے اس کو فنا کردے۔ پس اے زمین!آسمان کے بیچ سے اٹھ جا، تاکہ نورِ آسمان مثلاً نورِ آفتاب سایہ سوز ہوجائےیعنی خلا میں نور ہی نور رہ جائے ؎ تاکہ نور چَرخ گرددسَایہ سوز شب ز سایہ تست اے باغیٔ روز اہلِ ہیئت کی تحقیق ہے کہ شب کی حقیقت سایہ ہے زمین کا، آفتاب جس وقت ہمارے اعتبار سے زمین کی دوسری طرف ہوتاہے تو زمین کا سایہ جوّ میں پڑتا ہے وہ شب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح مثلاً زمین کے اٹھ جانے سے ہر وقت جوّ میں نور ہی نور رہا کرے اسی طرح اگر جسم فنا ہوجاوے تو روح پر نورِ حق متجلّی رہا کرے۔ پس جب فنا کی یہ خاصیّت ہے تو اس میں پس و پیش کیوں کیا جاوے۔ (کلیدِ مثنوی صفحہ : ۵۴۶)فنائے جسم سے مراد اپنی مرضیات اور خواہشات کو مرضیاتِ الٰہیہ کے تابع کردینا ہے، جو عادتاً موقوف ہے کسی اللہ والے کی صحبت میں باقاعدہ تزکیہ اور اصلاحِ نفس کرانے پر۔