معرفت الہیہ |
§س کتاب ک |
|
کیوں تجویز کیا گیا؟ اس نالائق کو یہ نہ سوجھی کہ امرِ الٰہی کا ادب کیا ہے، بندے کا کام بندگی اور سرافگندگی ہے، نہ کہ سرکشی اور روگردانی ہے۔ حضرت آدم علیہ السّلام نے اپنے قصور کی کوئی تاویل تک نہ کی، مثلاً شیطان نے مجھے دھوکا دیایا میں آپ کے حکم کو بھول گیا۔ بس عتاب ہونا تھا کہ ندامت سے گڑگڑائے اور فوراً عرض کیا کہ اے ہمارے رب! ہم سے قصور ہوگیا، اگر آپ ہمیں نہ بخشیں گے اور ہمارے اوپر رحم نہ فرمائیں گے تو ہم بڑے ٹوٹے میں پڑجائیں گے۔ اسی کو حضرت عارف رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عبدیت اور محبّت نیک بخت لوگوں کو عطا ہوتی ہے ؎ داندآں کو نیک بخت و محرم است زیر کی ز ابلیس و عشق از آدم است عقلِ ناقص کا ظہور ابلیس سے ہوا اور عقلِ کامل یعنی عقل مع المحبت کا ظہور حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا ؎ رَبَّنَا اِنَّاظَلَمْنَا گفت و آہ یعنی آمد ظلمت و گم گشت راہ حضرت آدم علیہ السّلام نے رَبَّنَا ظَلَمۡنَا عرض کیا اور آہ کھینچی کہ ظلمت آئی اور راستہ گم ہوا۔ پھر حق تعالیٰ نے آپ کی ندامت یعنی توبہ قبول فرمائی اور آپ کو تاجِ خلافت سے نوازا اور ابلیس لعین ہمیشہ کے لیے مردود ہوا۔ اور جو اللہ کے خاص بندے ہیں وہ اپنے باپ آدم علیہ السّلام کے طریقے پراب بھی کار بند ہیں،یعنی ہر خطا پر ندامت کے آنسو لے کر بارگاہِ صمدیت میں حاضر ہوجاتے ہیں۔ اسی کو مولانا رومی فرماتے ہیں ؎ آنکہ فرزندانِ خاصِ آدم اند نفحۂ اِ نَّا ظَلَمْنَا میدمند وہ لوگ جو فرزندانِ خاص حضرت آدم علیہ السّلام کے ہیں وہ رَبَّنَا ظَلَمۡنَا سے اپنی