صحبت اہل اللہ کی اہمیت اور اس کے فوائد |
ہم نوٹ : |
|
مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا قاسم صاحب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ، حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ علم کے یہ آفتاب ومہتاب سب کے سب حاجی صاحب کی خدمت میں بیعت ہوئے، سلوک طے کیا اور جب صاحبِ نسبت ہوگئے تو پھر ان کے نورِ نسبت سے سارا ہندوستان چمک گیا۔ میرے شیخ حضر ت شاہ عبد الغنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے چشم دید واقعہ بیان فرمایا کہ جب حکیم الامت کانپور میں صدر مدرس تھے، تقریبًا پچیس سال کی عمر تھی۔ حضرت کو اللہ تعالیٰ نے بنایا بھی حسین و جمیل تھا۔حضرت نے تقریر فرماتے فرماتے ایک نعرہ مارا ہائے امداد اللہ! اور بیٹھ گئے اور رونے لگے۔ بعد میں ایک بیرسٹر نے جو فارسی داں بھی تھے،حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ سے کہا کہ اگر آپ بیر سٹر ہوتے تو آپ کے دلائل سے جج اور عدالتیں لرزہ براندام ہوجاتیں۔یہ علوم آپ کو کہاں سے حاصل ہوئے؟ یہ سوال اس نے فارسی میں کیا ؎ تو مکمل از کمال کیستی تو مجمل از جمال کیستی یہ کمال آپ کو کہاں سے نصیب ہوا؟ یہ جمال آپ کو کہاں سے عطا ہوا؟ حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو فارسی میں ہی جواب دیا ؎ من مکمل از کمالِ حاجیم من مجمل از جمالِ حاجیم حاجی امداد اللہ صاحب کی صحبت اور ان کے فیض وبرکت سے اللہ تعالیٰ نے مجھ کو یہ کمال عطا فرمایا ہے۔ ہمارے دلوں میں شیخ کی جو نسبت منتقل ہوئی ہےاسی کی برکت سے آج اُمت میں ہمارا نام روشن ہورہا ہے۔جو اپنے آپ کو اللہ کے لیے مٹاتا ہے اسی کو اللہ چمکاتا ہے۔عورتوں کے لیے معیّتِ صادقین کا طریقہ اسی بہانے سے مستورات کو پردوں سے آواز تو پہنچتی ہے،یہ بھی ایک قسم کی