صحبت اہل اللہ کی اہمیت اور اس کے فوائد |
ہم نوٹ : |
|
پس اس آیت میں اہلِ ارتداد کا مقابلہ اہلِ وفا سے ہواتو معلوم ہوا کہ یہ قوم اہلِ وفا ہے جو کبھی مرتد نہ ہوگی۔ بے وفائی کی کلّی مشکّک کے فردِ کامل یعنی مرتدین کے مقابلے میں وفاداری کی کلّی مشکّک کے فردِ کامل یعنی اہلِ محبت لائے جارہے ہیں لہٰذا یہ کبھی بے وفا نہ ہوں گے۔ اس قومیت کے عالم میں جتنے افراد ہوں گے وہ کبھی مرتد نہیں ہوں گے،بے وفا نہیں ہوں گے۔ اﷲ کا دروازہ نہیں چھوڑیں گے اور شیخ کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ شیخ سے بھاگنے والے بھی وہی ہوتے ہیں جن میں محبت نہیں ہوتی جس طرح نبی سے بھاگنے والے جو تھے وہ پہلے ہی سے بے وفا تھے۔ شیخ نائبِ رسول ہوتا ہے، جس کے دل میں اﷲ کی محبت ہوتی ہے اس کے دل میں شیخ کی محبت ہوتی ہے، جس کے دل میں اﷲ کی محبت نہیں ہوتی اس کو اہل اﷲ سے محبت نہیں ہوتی اور جس کے دل میں اہل اﷲ کی محبت نہیں ہوتی اﷲ تعالیٰ بھی اس سے محبت نہیں کرتے۔ اﷲ کے پیاروں کے صدقہ میں ہی اﷲ تعالیٰ کی عنایات و محبت نصیب ہوتی ہے۔ جو نبی پر ایمان نہیں لائے کیا اﷲ نے ان سے محبت کی؟ کیا ابوجہل سے اﷲ نے محبت کی؟کیا ابولہب سے اﷲ نے محبت کی؟ نبی سے دشمنی کے سبب ان پر غضب نازل ہوا۔ اور جنہوں نے نبی سے محبت کی اﷲ تعالیٰ کی محبت سے سرفراز ہوئے۔ معلوم ہوا کہ جو اپنے شیخ و مرشد سے محبت کرتے ہیں اﷲ تعالیٰ کی محبت و عنایت ان کو نصیب ہوتی ہے اور جو اہل اﷲ سے محبت نہیں کرتے عنایتِ حق سے محروم رہتے ہیں۔ اور اس میں حسنِ خاتمہ کی بشارت بھی ہے کہ اہلِ محبت کا خاتمہ ایمان پر ہوگا کیوں کہ اﷲ جس سے محبت کرے اور جو اﷲ سے محبت کرے گا بھلا اس کا خاتمہ خراب ہوگا؟ اسی لیے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اہلِ محبت کی صحبت میں رہو تاکہ ان کی برکت سے تمہارے دل میں بھی اﷲ کی محبت آجائے جو ضامن ہے حسنِ خاتمہ کی۔صحبتِ اہل اللہ کی افادیت حسی مثال سے اس لیے کسی اﷲ والے کے پاس چالیس دن رہ لو، ایک چلّہ لگا لو پھر دیکھو کہ سلوک اور پیری مریدی سے کیا ملتا ہے؟ ورنہ رسمی پیری مریدی کا مزہ نہیں۔ انڈااگر