صحبت اہل اللہ کی اہمیت اور اس کے فوائد |
ہم نوٹ : |
|
تھا اور تیسرا آدمی نہ ہوتا تھا اور ذرا طبیعت نہ گھبراتی تھی۔ شیخ کی اﷲ اﷲ سنتا تو حاصلِ دو جہاں پا جاتا تھا۔ جب منزل ایک ہے تو راہ بر بھی ایک ہی ہونا چاہیے۔عالِم کو شیخ کی ضرورت کیوں ارشاد فرمایا کہ عالم کو شیخ کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ استغناکی شان رہتی ہے،اور تعلق کے بعد فنائیت پیدا ہوتی ہے اور حقوق کی ادائیگی آسان ہوجاتی ہے۔ حضرت شاہ پھولپوری رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ استغنا کی دو قسمیں ہیں:۱) پندار کی وجہ سے ہوتا ہے۔۲) اور ایک غلبۂ توحید کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس کی علامت یہ ہے کہ حقوق العباد میں کمی نہیں ہوتی۔ حضرت شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے تھے کہ کار کی بریک پر اگر ڈرائیور کا پاؤں نہ ہو تو چوک کے درمیان میں ایکسیڈنٹ کرے گا۔ چناں چہ جن لوگوں کا کوئی مربی نہیں تھا تو وہ حبِّ جاہ اور حبِّ باہ میں مبتلا ہو گئے۔اہل اﷲ سے محبت کی مقدار ارشاد فرمایا کہ ابھی ابھی ایک علمِ عظیم عطا ہوا ہے۔ ’’بخاری شریف‘‘ میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی دعا ہے: اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ حُبَّکَ وَ حُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ؎ اے اﷲ! میں آپ کی محبت مانگتا ہوں اور آپ کے عاشقوں کی محبت مانگتا ہوں۔ تو اس حدیثِ مبارکہ میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اﷲ تعالیٰ کے عاشقوں کی محبت مانگی ہے، تو اﷲ سے عاشقوں کی محبت مانگنا سنتِ پیغمبری ہے۔اب یہ محبت کتنی مانگنی چاہیے؟ ابھی ابھی راز ظاہر ہوا ہے۔ اور الحمدﷲ! اﷲ تعالیٰ نے بندے کو کشفِ اسرار کی کتاب بنایا ہے۔ تو یہ مقدار اس حدیث میں ہے: اَلْمَرْءُ عَلٰی دِیْنِ خَلِیْلِہٖ فَلْیَنْظُرْ اَحَدُکُمْ مَنْ یُّخَالِلُ؎ ------------------------------