صحبت اہل اللہ کی اہمیت اور اس کے فوائد |
ہم نوٹ : |
|
میں ارتقا کے ہے یعنی ان کی صحبت عطائے نسبت، بقائے نسبت، ارتقائے نسبت کا ذریعہ ہے اور فرمایا کہ اﷲ والوں کے بارے میں تعجب مت کرو کہ وہ دنیا میں رہتے ہوئے کیسے ہر وقت باخدا رہتے ہیں اس کا جواب دیتے ہیں ؎ آں کہ بر افلاک رفتا رش بود برزمیں رفتن چہ دشوارش بود تم یہ تعجب کرتے ہو کہ دنیا میں رہتے ہوئے یہ کیسے باخدا رہتے ہیں؟ کیسے ہر وقت نظر کی حفاظت کرتے ہیں؟ اور ہر وقت کیسے گناہ سے بچتے ہیں؟ اس کا یہ جواب ہے کہ جن کی رفتار آسمان پر ہے ان کو زمین پر چلنا کیا دشوار ہے؟ یعنی اﷲ والے جب آسمانی اعمال یعنی اعمالِ صالحہ کی برکت سے افلاک پر پہنچ گئے یعنی صاحبِ افلاک سے جن کو رابطہ وتعلق نصیب ہو گیا تو ان کو ان زمینی اعمال سے بچنا کیا مشکل ہے جو اس تعلق و رابطہ مع الحق کے لیے مضر ہیں۔صحبتِ اہل اللہ اور باطنی امراض سے حفاظت سایۂ راہ بر بہ است از ذکرِ حق یک قناعت بہتر از صد ہا طبق شیخ کی صحبت کا سایہ تمہاری تنہائی کے ذکر سے افضل ہے کیوں کہ شیطان نے بھی اکیلے بڑی عبادت کی تھی۔آسمان پر کوئی جگہ خالی نہ تھی جہاں ظالم نے سجدہ نہ کیا ہو لیکن مردود ہونے سے نہ بچ سکا کیوں کہ عبادت سے فنائیت کے بجائے اس کے اندر تکبر پیدا ہو گیا، اور شیخ کا سایہ تکبر سے حفاظت کا ذریعہ ہے اور تکبر سے حفاظت مردودیت سے حفاظت کی ضمانت ہے کیوں کہ اﷲ تعالیٰ کو تکبر سخت ناپسند ہے۔ ابلیس تکبر ہی کی وجہ سے مردود ہوا۔ اسی لیے جب صحبتِ شیخ نصیب ہو تو اس وقت تنہائی میں بیٹھ کر ذکر نہ کرو اس سے بہتر ہے کہ تم شیخ کے پاس بیٹھے رہو کیوں کہ ذکر سے کبھی نشہ آئے گا اور تم اپنے آپ کو بایزید بسطامی اور بابا فریدالدین عطار سمجھنے لگو گے۔تکبر آجائے گا۔ شیخ کا سایہ تمہیں مقامِ فنا پر رکھے گا اور اﷲ کو مقامِ فنا پسند ہے ؎