صحبت اہل اللہ کی اہمیت اور اس کے فوائد |
ہم نوٹ : |
|
جو اﷲ سے ملے ہوئے ہیں ان سے ملو اور کوئی راستہ اس سے اسہل اور قوی تر نہیں ہے۔ جو لوگ اﷲ والوں کے پاس رہے وہ کم عبادت کے باوجود اﷲ والے بن گئے۔ نشۂ عبادت سے محفوظ رہے۔ اﷲ والوں کے ظلِ شفقت نے ان کے عجب و کبر کے جراثیم پر ڈی ڈی ٹی چھڑک دی، اور جن لوگوں نے اﷲ والوں کو پیر و مرشد نہیں بنایا، تنہائی کی عبادت کی، تو تکبر میں مبتلا ہو گئے، اپنی عبادت پر ناز کیا، ہر ایک کو اپنے سے کمتر سمجھا اور اپنے کو سب کچھ سمجھا اور اَنَا میں مبتلا ہو گئے اور اَنَا فنا ہوتی ہے کسی صاحبِ نسبت اﷲ والے کا دامن پکڑنے سے۔ اﷲ کے مقبول بندوں سے مقبولیت ملتی ہے جیسے اپنے بچے کے دوست کو بھی باپ پیار کرتا ہے کہ یہ میرے پیارے کا پیارا ہے تو اﷲ کے پیاروں کے ساتھ جو رہتے ہیں وہ بھی پیارے بن جاتے ہیں۔ خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃ اﷲ علیہ ڈپٹی کلکٹر تھے۔مولوی نہیں تھے۔ لیکن حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت اور ان کی عشق و محبت کی وجہ سے علماء کے شیخ ہوئے۔حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب دامت برکاتہم نے بھی خواجہ صاحب کو اپنا پیر بنایا۔کرامتِ صحبتِ اہل اﷲ اﷲ تعالیٰ ہمارے دلوں کو سونے کا ترازو بنا دے، ایک اعشاریہ حرام لذت آجائے تو دل تڑپ جائے۔ آپ بتاؤ! مچھلی کو دریا سے نکال کر تپتی ہوئی ریت پر ایک سیکنڈ کے لیے رکھ دو تو تڑپتی ہے یا نہیں؟ تو کیا وجہ ہے کہ ایک اعشاریہ حرام لذت سے ہمارا دل نہ تڑپے؟ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ ہم سانپ ہیں مچھلی نہیں ہے۔ میرے شیخ شاہ عبدالغنی رحمۃ اﷲ علیہ یہ شعر پڑھتے تھے کہ ؎ دائم اندر آب کارِ ماہی است مار را با او کجا ہمراہی است آہ! ہر وقت پانی میں رہنا مچھلیوں کا کام ہے۔ہر وقت اﷲ تعالیٰ کے ساتھ رابطہ رکھنا یہ اﷲ والوں کا کام ہے۔سانپوں کو یہ مقام کہاں حاصل ہے، سانپ میں زہر بھرا ہوا ہے۔ جس کے نفس میں حرام لذت کی عادت پڑی ہوئی ہو اس کو پاک ہونے کے لیے ایک