صحبت اہل اللہ کی اہمیت اور اس کے فوائد |
ہم نوٹ : |
|
محبت ِ الہٰیہ کی لذّت کہاں سے ملتی ہے دوستو!اسی لیے کہتاہوں کہ کسی اللہ والے سے اللہ کی محبت کو دل میں پالیجیے، آپ سے بڑا دنیا میں کوئی مال دار نہیں ہوگا۔ خالقِ دوجہاں جس کے ساتھ ہو اس کی قیمت کاکیا پوچھنا ہے؟ اور ایسا مزہ ایسا مزہ ملے گا جس کی لذت کو دنیا کی کوئی لغت بیان نہیں کرسکتی۔ جو سارے عالم کو شَکر دے سکتا ہے، وہ خود کتنا میٹھا ہوگا؟ سارے عالم کے گنّوں میں رس کون پیدا کرتا ہے؟ اگر خدا گنّوں میں رس نہ دے تو گنّے مچھر دانی کے ڈنڈے ہوجائیں۔ جو اللہ سارے عالم کو شَکر دیتا ہے اس کی مٹھاس کا کیا عالم ہوگا؟ لیکن ہمیں کیوں محسوس نہیں ہوتا؟ کیوں کہ ہمیں دنیا کی محبت کاملیریا چڑھا ہوا ہے۔ جسے بخار ہے، قے ہورہی ہے ،اسے کباب، بریانی کامزہ آئے گا؟ چند دن کسی اللہ والے کے ساتھ رہ لوپھر دیکھو کہ اللہ کانام لینے میں کیا مزہ آتا ہے۔اصلی مولوی کون ہے؟ مولوی بھی اصلی وہی ہے جو مولیٰ والا ہواور مولوی مولیٰ والا کب بنتا ہے؟ مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎ مولوی ہر گز نہ شد مولائے روم تا غلامِ شمس تبریزی نہ شد یعنی میں پہلے ملاّرومی تھامگر مولوی کب بنا؟ شمس الدین تبریزی رحمۃ اللہ علیہ کی غلامی کے صدقہ میں میراڈ نکاپٹ گیا۔لیکن ڈنکا پٹوانے کی نیت سے اللہ والوں کو مت تلاش کرو، اللہ والوں کے پاس اللہ والا بننے کی کوشش کرو۔ اللہ تعالیٰ اگر مل گیا تو دونوں جہاں کامزہ پاگئے بغیر اسبابِ مزہ، دونوں جہاں کامزہ ان شاء اللہ پائیں گےکیوں کہ خالق ِ لذتِ کائنات جس کے دل میں آتا ہے تو وہ تمام حاصلِ لذّاتِ کائنات پاجاتا ہے۔ میرا اُردو کاشعر ؎ وہ شاہِ دو جہاں جس دل میں آئے مزے دونوں جہاں سے بڑھ کے پائے