صحبت اہل اللہ کی اہمیت اور اس کے فوائد |
ہم نوٹ : |
|
نے مدینہ پاک میں علماء کو سنایا۔اور میں آپ حضرات کو ڈھاکہ میں سنا رہا ہوں۔ جومال میں نے اپنے شیخ سے مدینہ پاک میں حاصل کیاوہ مال بلا محنت و مشقت آپ کو یہیں مفت میں دے رہا ہوں۔ حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب نے رحمۃ اللہ علیہ علمائے ندوہ سے خطاب فرمایا کہ اے علمائے ندوہ! شریعت نے نظر لگ جانے کو تسلیم کیا ہے اَلْعَیْنُ حَقٌّ؎ اور اس کی جھاڑ پھونک کرنے کی اجازت بھی دی ہے، چنا ں چہ اولادِ جعفر کو نظر لگ جایا کرتی تھیلِحُسْنِ صُوْرَتِہٖ وَلِحُسْنِ سِیْرَتِہٖکیوں کہ وہ صورتاً اور سیرتاً حسین تھے۔ ان کی والدہ نے سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اولادِ جعفر کو نظر لگ جاتی ہے اَفَاَسْتَرْقِیْ؟کیا مجھے جھاڑ پھونک کی اجازت ہے؟ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت عطا فرمائی کہ قرآنِ پاک یا حدیثِ پاک سے جو کلمات ثابت ہوں ان سے جھاڑ پھونک کر سکتی ہو۔؎ تو مولانا شاہ محمد احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اے علمائے ندوہ! جب بُری نظر لگ جاتی ہے ، اور اسلام اس کو تسلیم کرتا ہے تو کیا اللہ والوں کی اچھی نظر نہیں لگ سکتی؟ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ کی عبارت ہے: فَکَیْفَ نَظْرُ الْعَارِفِیْنَ الَّذِیْ یَجْعَلُ الْکَافِرَ مُؤْمِنًا وَالْفَاسِقَ وَلِیًّا وَالْجَاہِلَ عَالِمًا وَالْکَلْبَ اِنسَانًا؎ بس مولانا کی یہ بات سن کر علمائے ندوہ مولانا سے بیعت ہوگئے، یہاں تک کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ الٰہ آباد میں’’ مصنّف عبد الرزاق‘‘ کا عربی حاشیہ اور تخریج لکھنے والے مولانا حبیب الرحمٰن اعظمی مولانا شاہ محمد احمد صاحب سے دعا لینے آئے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ مولانا بڑے عالم نہیں تھے۔ حضرت مولانا علی میاں ندوی کو بھی دیکھا۔ پوچھا: کیسے آئے؟ کہا: مولانا سے دعا لینے آیا ہوں۔ یہ ہے آہ و فغاں کا اثر۔یہ ہے وہ راز کہ ------------------------------