صحبت اہل اللہ کی اہمیت اور اس کے فوائد |
ہم نوٹ : |
|
نازِ تقویٰ سے تو اچھا ہے نیاز رندی جاہِ زاہد سے تو اچھی مری رسوائی ہے دوسرے مصرع میں مولانا فرماتے ہیں کہ سینکڑوں طبق سے ایک قناعت بہتر ہے۔ دیکھیے کیسی مثال دی کہ اگر تمہارے پاس سینکڑوں قسم کی بریانیاں سینکڑوں قسم کی پلیٹوں میں رکھی ہوں لیکن اگر قناعت نہیں ہے تو تم ہائے ہائے کرتے رہو گے اس لیے ان سینکڑوں طبق کے مقابلہ میں ایک قناعت اگر تمہارے پاس ہے تو وہ کافی ہے۔ مراد یہ ہے کہ کثرتِ عبادت کے ناز سے بہتر ہے کہ شیخ کی صحبت سے تمہارے اندر ایک شکستگی آجائے جو ہزار عبادت سے افضل ہے۔ پیر باشد نرد بانے آسماں تیر پراں از کہ گردد از کماں مولانا رومی فرماتے ہیں کہ پیر آسمان کی سیڑھی ہے۔ کیا تیر بغیر کمان کے اڑ سکتا ہے؟ تیر چاہے دس لاکھ روپے کا ہو، چاہے سونے چاندی اور جواہرات کا ہو، زمین ہی پر پڑا رہے گا جب تک کمان میں نہیں آئے گا۔شیخ کمان ہوتا ہے، اگر شیخ سے تعلق نہیں ہے تو تم علم و فضل کے باوجود زمین ہی پر دھرے رہو گے، کبھی اﷲ تک نہیں پہنچ سکتے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں اصلاح کی ضرورت نہیں بس آٹھ سال مدرسہ میں پڑھ لینا کافی ہے، علم سے سب اصلاح ہوجاتی ہے۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو کیا مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی، مولانا قاسم نانوتوی، مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اﷲ علیہم کے پاس علم کم تھا جو ان حضرات نے ایک غیر عالم کی غلامی اختیار کی۔ بس حبِّ جاہ مانع ہے۔ علم کا پندار کسی کو اپنا بڑا نہیں بنانے دیتا،لیکن آہ! ایسے لوگوں کو اﷲ کی محبت کی ہوا بھی نہیں لگتی اور اپنے پندار، خود پرستی سے ہمیشہ مثلِ تیر بے کماں زمین ہی پر پڑے رہتے ہیں ؎ چوں گزیدی پیر نازک دل مباش سست ریزندہ چو آب و گل مباش جب تم نے پیر بنا لیا تو اب نازک دل نہ رہو کہ ذرا سا پیر نے ڈانٹ دیا تو دل میں کینہ پیدا ہو گیا، اور کیچڑ کی طرح زمین پر نہ پڑے رہو بلکہ اﷲ کی راہ میں سرگرم رہو۔