صحبت اہل اللہ کی اہمیت اور اس کے فوائد |
ہم نوٹ : |
|
ہے۔ جس ڈپٹی کمشنر کو معلوم نہ ہو کہ میں اس حلقہ کا ڈپٹی کمشنر ہوں وہ ڈپٹی کمشنر بھی نہیں ہے۔ ایسے ہی جس پیغمبر کو اپنی نبوت کا علم نہ ہو وہ نبی نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلے نبی کو اپنی نبوت پر ایمان لانا فرض ہوتا ہے۔ کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں گزرا جس نے کہا ہو کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں نبی ہوں یا نہیں؟ بلکہ ہر نبی نے اپنی نبوت کا ببانگِ دہل اعلان فرمایا۔ جس طرح خاتم النبیین سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم نے غزوۂ حنین میں فرمایا کہ اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبَ، اَنَا بْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ؎ اور قیامت تک کے لیے اعلان فرمایا: اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ ؎ کہ میں خاتم النبیین ہوں اب میرے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ لہٰذا اب قیامت تک جو نبی ہونے کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا، کذاب اور دجال ہے۔ انبیاء کو تو وحی سے اپنی نبوت کا یقینی علم ہوجاتا ہے لیکن اولیاء اﷲ کو بھی حالات و قرائن سے معلوم ہوجاتا ہے کہ میرے قلب میں وہ مولیٰ اپنی تجلی خاصہ سے متجلی ہوگیا، ولایتِ خاصہ عطا ہو گئی۔ جس کو اپنے قلب میں اس مولیٰ کا قربِ خاص محسوس نہ ہو وہ ولی نہیں، اس کا دل خالی ہے۔ ناممکن ہے کہ دریا میں پانی آئے اور اس کو محسوس نہ ہو کہ میرے اندر پانی ہے، اگر دریا خاک اڑا رہا ہے یہ دلیل ہے کہ اس دریا میں پانی نہیں ہے چاہے وہ لاکھ دعویٰ کرے کہ میں لبالب بھرا ہوا ہوں اور سینہ تان کر بہہ رہا ہوں لیکن اس کا خاک آمیز ماحول بتائے گا کہ یہ پانی سے محروم ہے، یہ ڈینگ ہانک رہا ہے، لاف زنی کر رہا ہے۔ جب دریا لبالب بہتا ہے تو بہت دور تک اس کی ٹھنڈک فضاؤں میں داخل ہوجاتی ہے۔ کئی میل دور سے معلوم ہوجاتاہے کہ اس طرف دریا ہے،کیوں کہ ادھر سے جو ہوا آتی ہے وہ پانی سے لگ کر آتی ہے۔پانی کی صحبت یافتہ ہوا اور ٹھنڈی نہ ہو؟ جو ہوا ٹھنڈی نہ ہو تو دلیل ہے کہ یہ پانی کی صحبت یافتہ نہیں ہے، اگر صحیح معنوں میں صحبت یافتہ ہوتی اور پانی کی ٹھنڈک کو صحیح معنوں میں جذب کیا ہوتا تو ضرور ٹھنڈی ہوتی۔ صحبت یافتہ کے معنیٰ خالی صحبت یافتہ نہیں بلکہ فیض یافتہ صحبت ------------------------------