صحبت اہل اللہ کی اہمیت اور اس کے فوائد |
ہم نوٹ : |
|
صحبت میں رہو گے تو اگر تمہیں اﷲ کی محبت کی پیاس نہ بھی ہو گی تو پیاس بھی مل جائے گی، وہ پیاس بجھانا بھی جانتے ہیں اور پیاس لگانا بھی جانتے ہیں۔ اﷲ والے خالی اﷲ کی محبت کا پانی نہیں پلاتے بلکہ جن کو اﷲ کی محبت کی پیاس نہ ہو ان کو پیاس بھی لگاتے ہیں ؎ گر تو طالب نیستی تو ہم بیا اگر تمہیں اﷲ کا عشق، اﷲ کی محبت کی پیاس نہیں ہے تو بھی میرے پاس آؤ ؎ تا طلب یا بی ازیں یارِ وفا تا کہ تمہیں بھی اﷲ تعالیٰ کی طلب، اﷲ تعالیٰ کی تڑپ اور پیاس مل جائے۔ یہ ایسے باوفا دوست ہیں کہ اﷲ پاک نے قیامت تک کے لیے ان کی رفاقت کے حسن کو منصوص کر دیا: وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا جن کی رفاقت کی اﷲ تعالیٰ تعریف کر دے، جن کی رفاقت کو اﷲ پاک حسین فرما دے ان کو چھوڑ کر کن سے دوستی کر رہے ہو؟علامہ محمود نسفی رحمۃ اﷲ علیہ تفسیرِ خازن میں لکھتے ہیں کہ جملہ وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًامیں حَسُنَ افعالِ تعجب میں سے ہے، یعنی مَا اَحْسَنَ رِفَاقَتَہٗ؎ یہ حضرات کیا ہی اچھے رفیق ہیں! یعنی اﷲ پاک یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ کیا ہی اچھے رفیق ہیں کہ تمہیں ہماری ذات تک لے آتے ہیں۔اگر تم ہم کو اچھا سمجھتے ہو تو ان کو اچھا کیوں نہیں سمجھتے؟ جو اچھے تک پہنچا دے وہ اچھا نہیں ہے؟ شاعر کہتا ہے کہ ؎ چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے وہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے اگر اﷲ والے بھی ہم سے محبت کریں تو دوستو! پھر تو لطف اور وجد آجاتا ہے۔تو اگر تمہارے اندر طلب نہیں ہے تو پھر تم کو اﷲ والوں کے پاس یا ان کے غلاموں کے پاس آنا چاہیے اور اﷲ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں اتباع کی برکت سے غیر معصومین کو معصومین کے ساتھ عطف کرکے بیان کر دیا: ------------------------------