ملفوظات حکیم الامت جلد 26 - یونیکوڈ |
|
( یعنی جب موسیؑ نے فرعون کی قوم کے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا 12 ) ـ فرمایا کہ آخر بادشاہ تھا اور
قانون کا پابند تھا ـ دوسرے جب اپنے آپ کو خدا کہتا تھا تو اس کو تو اور بھی انصاف کرنا ضروری
تھا ـ اور فرمایا کہ بعد القاء تجلی اور بھی زیادہ خوبصورت ہو گئے تھے ـ اس واسطے جس بزرگ میں
حضرت موسیؑ کی نسبت ہوتی ہے اس کی طرف دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے ـ جیسے
حضرت مدار ؒ ـ اس واسطے وہ منہ پر پردہ رکھتے تھے تا کہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو ـ
قذف کے معنی اور عجیب و غریب تفسیر
فرمایا کہ بعض لوگ یہ شبہ کرتے ہیں کہ حضرت موسیؑ مغلوب الغضب تھے کہ
تختیاں پھینک دیں ـ جواب یہ ہے کہ " القاء ،، اور " قذف ،، کے معنی ایک ہی ہیں ـ فا قذ فیہ میں
قذف کے معنی یہ نہیں کہ حضرت موسیؑ کی والدہ نے موسیؑ کو پھینک دیا بلکہ معنی
یہ ہیں کہ جلدی سے دریا میں رکھ دیا ـ اسی طرح موسیؑ نے الواح کو جلدی سے رکھ دیا تھا ـ
سلطانا کے معنی اور آیت کا صحیح مفہوم
فرمایا و اتینا موسی سلطانا کے معنی اقبال اور ہیبت ـ جیسے بعض بزرگوں کو اللہ تعالی
عنایت فرماتے ہیں ـ
حضرت مولانا شاہ فضل الرحمن صاحب
گنج مراد آبادی سے ملاقات کی تفصیل
فرمایا کہ مولانا شاہ فضل الرحمن صاحبؒ مراد آبادی کی خدمت میں دو دفعہ حاضر ہوا ـ
ایک دفعہ تو خوب لتاڑا ـ رات کو گیا تھا ، خلاف سنت کیا کہ رات کو گیا ـ اسباب ایک جگہ رکھ
کر مکان پر گیا خادم نے اطلاع کی تو فرمایا کہ کون کدھر سے آئے ، کیوں آئے ؟ میں نے کہا
کہ اللہ خیر کرے تین سوال ایک دم سے کر دیے ـ میں نے کہا طالب علم ہوں ، کانپور سے آیا
ہوں ، زیارت کیلئے آیا ہوں ـ بہت نا خوش ہو کر فرمایا چلے جاؤ ـ تم کو زمین نہ نگل گئی کہ ایسے
وقت آئے ـ اس وقت آنے کی وجہ فرمائیے دن میں آتے تو ہم قرض دام کر کے کھانے