ملفوظات حکیم الامت جلد 26 - یونیکوڈ |
|
جس کا نام " ادریس ،، تھا مولانا جامیؒ کے پاس بھیجا اور فرمایا کہ اگر تمہارا نام پوچھیں تو تم پہلے
کھڑے ہو جانا ـ پھر رکوع کرنا ، پھر داڑھی سے پانی چھڑک دینا ـ چنانچہ جب وہ گئے
مولانا جامیؒ نے نام دریافت کیا ـ انہوں نے ایسا ہی کیا ـ مولانا جامیؒ بہت ذہین تھے فورا
کہہ دیا کہ " ادریس ،، ہے
حکمت کی کتابوں کی تصنیف پر دو متضاد اثرات
" حکمت کی یہ کتابیں جو میں نے لکھی ہیں ان کو دیکھ کر بعض لوگ مجھ سے محبت کرتے
ہیں اور بعض کفر تک کا فتوی لگاتے ہیں ،، ( یہ ایک خط آ نے پر فرمایا تھا جب خط پڑھا اس
میں ایک درزی نے لکھا تھا کہ مجھ کو آپ سے اللہ کے واسطے بہت محبت ہے ) ـ
ہندو کے سلام کا جواب کس طرح دینا چاہیے
فرمایا کہ جب ہندو " سلام ،، کہتے ہیں تو میں جناب ،، کہہ دیتا ہوں اور دل میں یہ
سمجھتا ہوں کہ ،، جنابت ،، سے مشتق ہے ـ کیونکہ وہ غسل نہیں کرتے اور ـ سلام ،، اگر کہوں تو یہ
ارادہ ہوتا ہے کہ ہم کو حق تعالی کفر سے سلامت رکھیں ـ اور " سلام ،، میں بھی کیا حرج
ہے ـ اور " آداب ،، کے معنی یہ ہیں کہ آپاؤں داب یا ہندو کو جوابا اشارہ کر دے ـ
مولوی محمد اسماعیل صاحب کی ریاست بھوپال
میں ایک عورت کو مسلمان کرنے کی حکایت
فرمایا کہ " مولوی محمد اسماعیل صاحب ،، ایک مولوی تھے ریاست بھوپال میں ـ انہوں
نے کسی عورت کو مسلمان کر لیا اور حیرت ہے کہ وہاں پر انگریزی قانون ہے کہ مسلمان کرنا جرم
ہے ـ مولوی صاحب پر مقدمہ چلا ـ جج ان کا واقف تھا اس نے اپنی جگہ پر سمجھایا کہ تم انکار
کر دینا ـ انہوں نے کہا کہ موقعہ پر دیکھا جائیگا ـ مقدمہ کی تاریخ آئی جج نے پوچھا تم نے
مسلمان کیا ہے ؟ کہا میں نے نہیں کیا یہ خود مسلمان ہو گئی ـ اس جج نے کہا کہ تم نے اس کو کلمہ
پڑھایا ؟ کہا ہاں ـ جج نے کہا بس یہی ہے مسلمان کرنا ـ کہا کہ یہ قانون غلط ہے ـ میں اس
قانون کو نہیں مانتا ـ کیونکہ جب اس نے اسلام کا عزم کر لیا تھا تو اسی وقت سے مسلمان ہو گئی