ملفوظات حکیم الامت جلد 26 - یونیکوڈ |
|
کاذب ۔ اسی طرح احوال بھی دو قسم ہیں ۔ ایک ناقص اور ایک کامل ۔ پہلے احوال ایک دفعہ کم
ہو جاتے ہیں پھر دوسرے اس کے بعد پیدا ہوتے ہیں ۔ وہ راسخ ہوتے ہیں ۔ اسی کو فرماتے
ہیں ؎ بسیار سفر باید تا پختہ شود خامے
امور شاقہ میں تصور عادی ہے
وعظ میں فرمایا ۔ تصور غایت معقولین کے نزدیک تو عقل ہے مگر میرے نزدیک یہ
عادی ہے اور وہ بھی امور شاقہ میں ورنہ بہت دفعہ مثلا گھنٹے گزر جاتے ہیں بکواس میں ۔
اور اسے سے پہلے کوئی غایت تصور میں نہیں ہوتی ۔
متاخرین کا ایمان اعجب ہے
وعظ میں فرمایا متاخرین کا ایمان اعجب ہے اکمل نہیں ۔ اکمل صحابہ رضوان اللہ تعالی
اجمعین کا ہے ۔ جیسے علم کے ساتھ انسان کا جو اصل میں عامی موصوف اعجب ہے ۔ حق تعالی
کا عالم ہونا اعجب نہیں گو اکمل ہے ۔
محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب
فرمایا محلہ کی مسجد میں نماز کا پچیس نماز کا ثواب ہے اور جامع مسجد میں پانچ سو کا ۔ مگر
فقہاء نے لکھا ہے کہ پچیس کیف میں پانچ سو سے افضل ہیں ۔ اسی طرح تقدیم زکوۃ علی
الرمضان ثواب میں تو کم ہو گا کیف میں زیادہ ہو گا ۔
عقاید کا اثر اعمال پر پڑتا ہے
وعظ میں فرمایا کہ عقائد کا اثر اعمال پر پڑتا ہے جیسے کہ مسئلہ توحید ۔ ایک محقق نے اس
اثر کو ظاہر کر دیا ۔
موحد چہ پائے ریزی زرش چہ فولاد ہندی نہی بر سرش
امید و ہراساں نباشد زکس ہمیں است بنیاد توحید بس
اور آیت تقدیر " لیکی لا تا سوا علی ما فاتکم ولا تفرحوا بما اتا کم ،، کوئی