فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
حدیث کی مراد ظاہر ہوتی ہے اور کلیات کے واسطہ سے سب ہی قرآن ہیں جیسا اوپر مذکور ہوا، اور اس مسئلہ کو امام ابو حنیفہؒ نے سب سے زیادہ سمجھا ہے۔۱؎جملہ احکام شرعیہ وفقہیہ کتاب اللہ کے حکم میں ہیں وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا۔ (آل عمران) اور مضبوط پکڑے رہو اللہ تعالیٰ کے سلسلہ۲؎ کو یعنی اللہ کے دین کو، جس میں اصول و فروع سب آگئے۔۳؎ اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑلو، یعنی قرآن و احکام قرآن کو جس میں حدیث و فقہ سب شامل ہیں کیونکہ سب اسی ایک متن کی شروح ہیں ۔۴؎ صحیحین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: سُئل ہل خصکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشئ دون الناس قال لا، الا فہما اوتیہ الرجل فی القرآن۔ الحدیث۔(بخاری ومسلم) یعنی حضرت علیؓ سے پوچھا گیا کہ آپ حضرات (اہل بیت) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ خاص باتیں دوسروں سے الگ بتلائیں ؟ فرمایا نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو قرآن کی فہم (خاص درجہ میں ) عطا فرمادیں ۔(مسلم شریف) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (یہ جو) فرمایا: إلا فہما اوتیہ الرجل فی القرآن، اس میں قرآن سے مراد تمام شریعت الٰہیہ ہے جیسا کہ (ترمذی شریف کی) ایک حدیث میں وارد ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوشخص آئے اور ------------------------------ ۱؎ الاستماع والاتباع للسادۃ والاتباع ملحقہ حقوق الزوجین ص:۴۱۸ ۲؎قولہ فی ترجمہ حبل ’’سلسلہ‘‘ روعی فیہ کما تری المعنی الحقیقی والمجازی معاً لانہ یطلق ہذا اللفظ فی محاوراتنا بمعنی العلاقۃ والوصلۃ ولا یخفی لطفہ)۔ (بیان القرآن) ۳؎ بیان القرآن ص:۴۴، پ:۴ ۴ ؎ بدائع ص:۱۸۹ بدیعہ: ۶۹