فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
دلائل سمعیہ ونقلیہ کی ضرورت کہاں واقع ہوتی ہے (کوئی بھی عمل) اگر صرف فن میں مقصود ہے دین میں مقصود نہیں تو اس دلیل صحیح کا سمعی یعنی حدیث وغیرہ ہونا ضروری نہیں دوسری دلیل بھی اس کے لئے کافی ہے بشرطیکہ وہ شرعاً باطل نہ ہو، جیسے حبسِ دم کہ مقصود فی الدین نہیں تو گو یہ حدیث وغیرہ سے ثابت نہیں مگر ایسے قواعد ظنیہ سے ثابت ہے جن پر شریعت نے نکیر نہیں کیا اور اگر وہ مقصود دین میں بھی مقصود ہو تو دلیل صحیح کا سمعی ہونا بھی ضروری ہے جیسے اعمال مامور بہا ومنہی عنہا کی مطلوبیت ومتروکیت۔۳؎عقائد قطعیہ وظنیہ کے لئے کیسے دلائل کی ضرورت ہے (۱) عقائد قطعیہ کے لئے ضرورت ہے دلیل قطعی کی جو ثبوتاً بھی قطعی ہو اور دلالۃً بھی قطعی ہو۔ (۲) عقائد ظنیہ کے لئے دلیل ظنی کافی ہے بشرطیکہ اپنے مافوق کے ساتھ معارض نہ ہو ورنہ دلیل مافوق ماخوذ ہوگی اور یہ دلیل متروک ہوگی اور اگر مماثل کے ساتھ معارض ہوگی تو دلائل ما بعدکی طرف رجوع کریں گے اگر دلائل مابعد بھی متعارض ہوں گے دونوں شقوں کے پیدا ہونے کی گنجائش ہوگی۔ (۳) عقائد قطعیہ میں تو کسی غیر معصوم کا کلام حجت نہ ہوگا اور عقائد ظنیہ میں غیر مجتہد کا کلام حجت نہ ہوگا، بلکہ خلاف دلیل ہونے کی صورت میں وہ غیر مجتہد اگرمقبول ہے تو اس کے کلام میں تاویل کی جائے گی ورنہ رد کردیا جائے گا۔۲؎وجوب کی دو قسمیں ، واجب بالذات اور واجب بالغیر کسی شئی کا ضروری اور واجب ہونا دو طرح پر ہوتا ہے ایک یہ کہ قرآن وحدیث میں خصوصیت کے ساتھ کسی امر کی تاکید ہو جیسے نماز، روزہ وغیرہ ایسی ضرورت کو وجوب ------------------------------ ۱؎ تجدید تصوف منقول از تھانوی ص ۴۶۶ ۲؎ بوادرالنوادر، رسالہ شق الجیب عن حق الغیب ص ۷۴۴