فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
ہی نہیں باقی علم بھی ضروری نہیں ، اب لوگوں نے بزرگوں کے تصرفات کو بھی ان کی کرامتوں میں ٹھونس دیا ہے، حالانکہ تصرف اور چیز ہے اور کرامت اورچیز ہے۔۱؎کشف اورفراست کا فرق ایک مشہور مدرسہ کے فاضل نے عرض کیا کہ کشف اور فراست میں کیا فرق ہے؟ ارشاد فرمایا کہ کشف سے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ استدلالی نہیں ہوتا بلکہ صریحی ہوتا ہے جس سے قناعت ہوجاتی ہے بخلاف فراست کے کہ اس کے اندر ایک درجہ استدلالی کا بھی ہوتا ہے گو غالب اس میں علم ضروری ہوتا ہے۔ غرض فراست میں جو علم حاصل ہوتا ہے وہ مرکب ہوتا ہے علم ضروری اور علم استدلالی سے جس کا زیادہ حصہ علم ضروری ہوتا ہے اور مغلوب حصہ علم استدلالی، فراست کی ابتداء تو علم ضروری سے ہوتی ہے اس کے بعد اس امر کے معلوم کرنے کے لئے کہ جو کچھ ہم سمجھتے ہیں وہ صحیح ہے یا نہیں اس کے لئے کچھ تامل کرنا پڑتا ہے گو وہ تامل استدلال کے درجہ کا نہیں ہوتا مگر استدلال کے مشابہ ضرور ہوتا ہے۔ اور کشف میں تامل کی بھی حاجت نہیں ہوتی خود بخود بداہتاً اس کی صحت اور عدم صحت کا علم حاصل ہوجاتا ہے۔۲؎عقل وکشف کا فرق عقل کی رسائی وہاں تک ہوتی ہے جہاں تک کشف کی مگر اتنا فرق ہے کہ کشف کی مثال ٹیلی فون کی سی ہے کہ وہاں صریح الفاظ سنائی دیتے ہیں اور عقل کی مثال ٹیلی گراف کی سی ہے کہ اس میں کچھ تامل کرنا پڑتا ہے۔ ۳؎ ------------------------------ ۱؎ افاضات الیومیہ ۱۰؍۱۹۸ ۲؎ الافاضات الیومیہ ۱۰؍۲۰۷ ۳؎ افاضات ۱۰؍ ۲۰۷