فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
مگر آج کل مسلمانوں میں غیرت نہیں رہی۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ اہل یورپ کی ایجادات سے نفع اٹھانا حرام ہے ، میں اسباب راحت سے انتفاع کو منع نہیں کرتا میرا مطلب یہ ہے کہ حدود سے تجاوز کرنا جائز نہیں ، تم شوق سے ایجادات کرو اور دوسروں کی ایجادات سے نفع بھی حاصل کرو، مگر حدود سے تجاوز نہ کرو اور جن امور میں وہ لوگ حدود سے تجاوز کر رہے ہیں ان میں تقلید نہ کرو۔ اس زمانہ میں مسلمانوں کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ یورپ کی ہر چیز کو ترقی میں دخیل سمجھتے ہیں حتی کہ لباس اور وضع میں بھی ان کی تقلید کرنے لگے، بھلا کوئی پوچھے کہ اس کو ترقی میں کیا دخل ہے، دین کی ترقی میں دخل نہ ہونا ظاہر ہے، میں کہتا ہوں کہ دنیا کی بھی اس میں کچھ ترقی نہیں بلکہ تنزلی ہے کیوں کہ اس کے فیشن کا اتباع کرنا زیادہ روپئے خرچ کیے بغیر دشوار ہے، ہندوستانی لباس سو ڈیڑھ سو میں تیار ہوسکتا ہے اور کوٹ پتلون، سوٹ بوٹ ہزار دو ہزار سے کم میں تیار نہیں ہوسکتا پھر اس کے لوازمات بھی پچیس تیس سے کم تیار نہیں ہوسکتے، ہم نہیں سمجھتے کہ اس کو دنیا کی ترقی کہنا کس حد تک صحیح ہے۔۱؎شیوع ہوجانے اور عادتِ غالبہ بن جانے سے تشبہ ختم ہوجاتا ہے میز کرسی پر کھانا کھانے کی بابت اظہارخیال میز کرسی پر کھانا کھانے کی قباحت میں بعض مقامات میں تامل ہوتا ہے کیونکہ اب ان مقامات میں یہ عام طور سے مشہور اور عام ہو گیا ہے، اور عموم شہرت کی وجہ سے تشبہ سے نکل جائے گا، مگر پورا عام نہیں ہوا ہے، اس لئے دل میں کچھ کھٹک سی رہتی ہے، جب تک دل میں کھٹک ہے تو پھر تشبہ کی وجہ سے ناجائز رہے گا۔۲؎ ------------------------------ ۱؎ وعظ الحدود والقیود ملحقہ حدود وقیود ۲۵؍ ۴۴؍ ۴۷ ۲؎ الکلام الحسن ص ۸۳