فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
فصل توکل واسباب کے اقسام واحکام توکل کی دو قسمیں توکل کی دوقسمیں ہیں علماً وعملاً، علماًتو یہ ہے کہ ہر امر میں متصرف حقیقی ومدبر تحقیقی حق جل وعلا شانہ کو سمجھے اور اپنے کو ہر امر میں ان کا محتاج اعتقاد کرے یہ توکُّل تو ہر امر میں عموماً فرض اور جزء عقائد اسلامیہ ہے۔ قسم دوم توکل عملاً اس کی حقیقت ترک اسباب ہے پھر اسباب کی دو قسمیں ہیں ۔اسباب کی دو قسمیں اسباب کی دو قسمیں ہیں اسباب دینیہ اور اسباب دنیویہ۔ اسباب دینیہ جن کے اختیار کرنے سے کوئی دینی نفع حاصل ہو ان کا ترک کرنا محمود نہیں ، بلکہ کہیں گناہ اور کہیں خسران وحرمان ہے اور شرعاً یہ توکل نہیں ، اگر لغۃً یہ توکل کہا جائے تو یہ توکل مذموم ہے۔ اور اسباب دنیویہ جس سے دنیا کا نفع حاصل ہو اس نفع کی دو قسمیں ہیں حلال یا حرام، اگر حرام ہو اس کے اسباب کا ترک کرنا ضروری ہے اور یہ توکل فرض ہے۔ اور اگر حلال ہو اس کی تین قسمیں ہیں (۱) یقینی (۲) ظنی (۳) اوروہمی۔ اسباب وہمیہ جن کو اہل حرص وطمع اختیار کرتے ہیں جس کو طول امل کہتے ہیں