فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
بعضے امور ناگوار طبیعت ہوتے ہیں اور ناگواری کی دو وجہ ہوتی ہیں تکبر یا خلاف عادت ہونا، ما بہ الامتیاز اور معیار تکبر اور خلاف عادت کا یہ ہے کہ اگر اس شخص کا خلاف عادت اعزاز بھی کیا جائے تب بھی شرمائے تو وہ ناگواری خلاف عادت کی وجہ سے ہے اور اگر ایسا نہ ہو مثلا ایک شخص ہے کہ بازار میں سر پر گٹھا لے کر چلنے سے تو شرماتا ہے اور ہاتھی پر چڑھنے سے نہیں شرماتا گو خلاف عادت ہو تو یہ تکبر ہے اور اگر دونوں میں شرماتا ہے تو خلاف عادت سے رکنا خجلت ہے تکبر نہیں ۔۱؎زینت اور تفاخر میں فرق زینت سے مقصود کبھی اپنا اچھا لگنا ہوتا ہے اور کبھی یہ مقصود ہوتا ہے کہ دوسرے کے نزدیک حقیر نہ ہو اور یہ دونوں غرضیں حدّ جواز میں ہیں ۔ اورکبھی مقصود دوسرے سے بڑا بننا اور امتیاز مقصود ہوتاہے یہ تفاخر ہے اور ناجائز ہے۔۲؎جمال وزینت اور تکبر کافرق فرق یہ ہے کہ جمال اور زینت تو اپنا دل خوش کرنے کے لئے یا اظہار نعمت الٰہیہ کے لئے ہوتا ہے، اور دل میں اپنے کو نہ اس نعمت کا مستحق سمجھتا ہے اور نہ دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے، اور جس میں دعوی استحقاق ہو اور دوسروں کی تحقیر ہو، اور اپنے اوپر نظر اور دوسروں کی نظر میں علو شان کاقصد ہو وہ تکبر اور حرام ہے۔۳؎وقار اور تکبر کا فرق آج کل جو لوگ وقار وقار پکارتے ہیں یہ وقار تکبر کا پوٹلہ ہے ان لوگوں نے ------------------------------ ۱؎ حسن العزیز ص ۳۰۶ ج۴ ۲؎ حسن العزیز ۴؍ ۳۶ ۳؎ بدائع ص ۷۴