فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
تصرف، سحر، عملیات وتعویذات کا حکم تصرف کا شرعی حکم یہ ہے کہ فی نفسہ مباح وجائز ہے پھر غرض ومقصود کے تابع ہے یعنی اگر اس کا استعمال کسی غرض محمود کے لئے کیا جائے تو یہ محمود سمجھا جائے گا، جیسے مشائخ صوفیہ کے تصرفات اور اگر کسی مذموم مقصد کے لئے کیا جائے تو یہ فعل بھی مذموم ہوجائے گا پھر مذمت وکراہت میں جو درجہ اس کی غرض اور مقصد کا ہوگا اسی کے مطابق اس کی مذمت وکراہت میں کمی بیشی ہوگی۔۱؎ سحر میں اگر کلمات کفریہ ہوں ، مثلاً استعانت بکواکب وغیرہ تب تو کفر ہے خواہ اس سے کسی کو ضرر پہنچایا جائے یا نفع پہنچایا جائے۔ اور اگر کلمات مفہوم نہ ہوں تو بوجہ احتمال کفر ہو نے کے واجب الاحتراز ہے، اور یہی تفصیل ہے تمام تعویذ گنڈوں اور نقش وغیرہ میں ۔۲؎ عمل باعتبار اثر کے دو قسم کے ہیں ایک قسم یہ ہے کہ جس پر عمل کیا جائے وہ مسخر اور مغلوب المحبت ومغلوب العقل ہوجائے ایسا عمل اس مقصود کے لئے جائز نہیں جو شرعاً واجب نہ ہو جیسے نکاح کرنا کسی معین مرد سے کہ شرعاً واجب نہیں اس لئے اس کے لئے ایسا عمل جائز نہیں ۔ دوسری قسم یہ کہ صرف معمول کو اس مقصود کی طرف توجہ بلا مغلوبیت ہو جائے پھر بصیرت کے ساتھ اپنے لئے مصلحت تجویز کرے ایسا عمل ایسے مقصود کے لئے جائز ہے، اس حکم میں قرآن وغیر قرآن مشترک ہیں ، رقیہ جائز تو ہے مگر افضل یہی ہے کہ نہ کیا جائے۔۳؎ ------------------------------ ۱؎ بوادرالنوادر ص ۷۸۳ ۲؎ بدائع ص ۷۱ ۳؎ امدادالفتاوی ۴؍ ۸۸و ۹۹