فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
غرض اس وقت ایک مصلحت سے دوڑ کر چلنے اور سینہ ابھارنے کا حکم ہوا تھا، پھر مکہ فتح بھی ہوگیا، اور پھر بھی اسی طرح حج وعمرہ ہوا، قیامت تک یہی حکم رہا کہ جو لوگ طواف کریں وہ اسی طرح اکڑ کر چلا کریں ، پہلے تو تھا مصلحت سے پھر رہ گیا اظہار حکمت کے لیے، گویا اس وقت اس حالت کا استحضار مقصود ہے یہ فعلی نظیر ہے۔ بہرحال نصوص قرآنیہ اور احادیث مؤید ہیں اس بات پر کہ اعطاء کے بعد بھی طاعت کو نہ چھوڑا جائے جب نصوص سے ایک قاعدۂ کلیہ نکل آیا تو اس کی ایک فرع یہ بھی ہے کہ عزم کے بعد اگربارش بھی ہوجائے تو نماز استسقاء ترک نہ کی جائے پہلے طلب کے لئے تھی اب شکر کے لئے ہے حاصل یہ ہے کہ عطاء کے بعد وہ فرد ہوگئی شکر کی، اس لئے اس کو کرنا چاہئے۔ البتہ اگر شکر کو عام لیا جائے جو نماز استسقاء کی ہیئت کے ساتھ مخصوص نہ ہو بلکہ کسی دوسری صورت سے ہو مثلاً مطلقاً طاعات میں زیادتی یا زبان سے صیغہ شکر ادا کرنا تو اور بات ہے اس کو ہر نعمت کے بعد مشروع کہیں گے، بہر حال اتنا قاعدہ ضرور سمجھ میں آتا ہے کہ عطاء کے بعد بھول نہ جائے طاعت کو، چھوڑے نہیں ۔مزید توضیح اور دلائل میں اس کے بعد مؤیدات بیان کرتا ہوں مثلا یہ آیت ہے: رَبَّنَا لاَ تُؤاخِذْنَا إنْ نَسِیْنَا أوْ أخْطَأنَا:الخجو چیزیں اس آیت میں مذکور ہیں یعنی نسیان اور خطاء وغیرہ ان پر مؤاخذہ نہ ہونا اس کا لوگوں سے وعدہ ہوگیا تھا اور پہلی آیت یعنی’’ إنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ أنْفُسِکُمْ أوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اﷲ الآیۃ‘‘ بالمعنی العام منسوخ ہوگئی تھی، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ رفع عن أمتی الخطاء والنسیان، مگر پھر بھی یہ حکم ہوا کہ یوں ہی مانگے جاؤ اور یہ دعاء تعلیم کی گئی تو بات یہ ہے کہ منسوخ ہونے کے قبل تو یہ سوال طلب کے لئے تھا کہ ہم سے یوں مانگا کرو، اب