فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
سے معارض نہ ہونا حتی الوسع ثابت کریں ۔ اس کی تائید کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام وحضرت خضر علیہ السلام کا قصہ کافی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بیان فرماکر تمنافرمائی لوصبر موسیٰ الخ حالانکہ بظاہر افعال خضریہ معارض نصوص شرعیہ کے تھے ،اور اسی بناء پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انکار فرمایا تھا ،مگر آخر میں ظاہر ہواکہ معارض نہ تھے اور اسی لئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے لوصبر فرمایا۔ پس حاصل یہ ہوا کہ جس شخص کا کمال فی الدین یقینا یاظناً ثابت ہو، اس کو بدون یقین کامل کے ناقص الدین نہ کہیں گے ،اور جس شخص کا ابھی کمال فی الدین ہی ثابت نہیں بلکہ یاناقص الدین ہونا معلوم ہے یامجہول محض ہے ،وہاں چونکہ مدارِ اضطرار صَرف عن الظاہر نہیں پایا جاتا، لہٰذا ایسے کی خبر جو ظاہر وعادت کے موافق ہوگی اس کی تصدیق کریں گے ورنہ تکذیب کریں گے خواہ قطعاً یاظناً جیسا کہ مقام کا مقتضا ہو ۔۱؎تاویل کرنے کا معیار ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اگر تاویل کی جائے تو پھر کوئی بھی مؤاخذہ کے قابل نہیں رہتا، تاویل میں تو بڑی وسعت ہے، فرمایا کہ تاویل وتوجیہہ کا بھی تو ایک معیار ہے ایک وہ شخص ہے جس کی غالب حالت صلاحیت کی ہے، دین کا مطیع ہے، عقائد صحیح ہیں ، ایسے شخص سے کوئی غلطی ہوجائے وہاں تاویل واجب ہے اور جہاں فسق وفجور کا غلبہ ہے وہاں تاویل نہ کی جائے گی اور مستحقین تاویل کی شان میں اگر تاویل بھی نہ کی جائے تب بھی کف لسان واجب ہے گوان کا معتقد ہونا بھی واجب نہیں جیسے شیخ محی الدین ابن عربیؒبایزید وغیرہم۔۲؎ فائدہ: قرآن و حدیث میں تکذیب سے کفر لازم آتا ہے، تاویل سے نہیں لازم آتا، مگر اس میں اتنی شرط ہے کہ وہ تاویل ضروریاتِ دین میں نہ ہو۔۳؎ ------------------------------ ۱؎ امدادالفتاویٰ ج۴ص۵۴۹سوال نمبر۶۰۹ ۲؎ افاضات ۲؍ ۳۰۶ ۳؎ مقالات حکمت ص:۲۵