فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
تصوف کی تعریف تصوف نام ہے باطن کورذائل سے خالی کرنے اور فضائل سے آراستہ کرنے کا جس میں توجہ الی اللہ پیدا ہوجائے۔۱؎ اصطلاح وعرف میں تصوف اس علم کا نام ہے جس پر عمل کرنے سے باطن کی وہ صفائی نصیب ہوتی ہے جس سے انسان بارگاہ میں مقبول اورصاحب مدارج ومقام ہوتا ہے۔۲؎ تصوف نام ہے درستی ظاہروباطن کا۔۳؎صوفی کی تعریف فرمایا کہ صوفی کا ترجمہ میرے نزدیک عالم باعمل ہے لوگوں نے اس میں نہ جانے کیا کیا شرطیں لگالی ہیں جو اس تعریف کا جز نہیں ۔۴؎ خیرالقرون میں توصحابی ،تابعی ، تبع تابعی، امتیاز حق کے لئے کافی القاب تھے ،پھر خواص کو زہاددعُبّاد کہنے لگے ،پھر جب فتن وبدعات کا شیوع ہوا اور اہل زیغ بھی اپنے کو عُبّاد وزہادکہنے لگے،اس وقت اہل حق نے امتیاز کے لئے صوفی کا لقب اختیار کیا۔ اور دوسری صدی کے اندرہی اس لقب کی شہرت ہوگئی۔۵؎مولوی اور عالم کی تعریف مولوی اس کو کہتے ہیں جو مولیٰ والا ہو یعنی علم دین بھی رکھتا ہو اور متقی بھی ہو خوف خدا وغیرہ اخلاق حمیدہ بھی رکھتا ہو صرف عربی جاننے سے آدمی مولوی نہیں ہوجاتا۔ ------------------------------ ۱؎ تجدید تصوف ص ۱۷ ۲؎ تجدید تصوف ص ۱۳ ۳؎ التبلیغ وعظ کساء النساء ص ۸۱ ۴؎مجالس حکیم الامت ص ۲۷۸ ۵؎انفاس عیسیٰ ۲۸۱،شریعت وطریقت ۳۶۱