فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
اور ایک حدیث اس مسئلہ پر سب سے زیادہ دال ہے گو اس میں ذرافکر کی ضرورت ہے اور اس میں بہت بڑی مضرت کی تصریح ہے اور نیز طلبہ کے کام کی بات ہے وہ یہ ہے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ عید کا دن تھا حضور دولت خانہ میں تشریف رکھتے تھے دولڑکیاں دف لئے بجارہی تھیں اور گارہی تھیں اور ایک روایت میں ایک قصہ حبشن کا آیا ہے کہ لڑکے جمع تھے اور وہ اچھ کودرہے تھے۔ بہرحال انہیں بدوؤں کی طرح سے دوچھوکریاں تھیں اور وہ کچھ گابجارہی تھیں ۔ فرمایا:اس وقت ایک بڑا فتنہ یہ پیداہوا ہے کہ خاوندوں کی زیادتی اور ظلم کے سبب عورتوں میں ارتداد شروع ہوگیا، معلوم ہوا کہ قریب ہی زمانہ میں کئی ہزارعورتیں مرتد ہوچکیں ، بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ عورتوں کو جو مرد ستاتے ہیں اور ظلم کرتے ہیں ، یامرد مجنون ہوگیا ہے یاعنین (نامرد)ہے یا مفقود الخبر ہے اس کے متعلق اسلام میں کیا احکام ہیں اور اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام میں ایسی حالت میں مرد سے عورت کی نجات کے لئے کوئی صورت نہیں ،کوئی امام ابوحنیفہؒ پر اعتراض کرتا ہے کہ ان کے مذہب میں ان مشکلات کا کوئی حل نہیں ہے ان ہی وجوہ سے ایک رسالہ مرتب کررہاہوں ۔ جب سے میں نے یہ سنا ہے کہ کئی ہزارعورتیں کوئی سبیل نہ ہونے کی وجہ سے مرتد ہوگئیں اس سے بے حد دل پر اثر ہوا اور اس رسالہ کی تکمیل کی ضرورت محسوس ہوئی اور چونکہ اس رسالہ میں بعضی تدابیر دوسرے ائمہ سے لی گئی ہیں اس لئے بعض علماء نے کہا کہ اس سے حنفیت جاتی رہے گی ،میں نے کہا (کیاخوب) چاہے اسلامیت جاتی رہے ۔ (ملفوظات حکیم الامت ص۱۸ ج۳قسط ۱ملفوظ نمبر۲۲)