فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
پیر زخمی ہوجائے۔اسی طرح اسلام ایجادات نہیں سکھلاتا، یہ سکھلاتا ہے کہ: ۱:- کسی ایجاد کو اس طرح نہ اختیار کرو جس سے دین میں خلل ہو یا جان کا خطرہ ہو۔ ۲:- اسی طرح یہ بتاتا ہے کہ بے ضرورت ایجادات کے درپے ہوکر ضروری کاموں کو ضائع نہ کرو۔ ۳:- اور ضروری ایجادات میں بھی اس کا لحاظ رکھو کہ موہوم نفع کے لیے خطرہ قویہ کا تحمل نہ کرو۔ غرض اصول تو ہر ایجادات کے متعلق بتلادئیے مگر ان کی ترکیب نہیں بتلائی کیوں کہ یہ اسلام کے مقصود سے الگ ہے اور کمال اسی کا نام ہے کہ مقصود سے تجاوز نہ کیا جائے۔۱؎ یہ تو ان ایجادات کا حکم تھا جن کا بدل مسلمانوں کے یہاں نہیں ہے۔ اور جو ایجادات ایسی ہوں جن کا بدل مسلمانوں کے یہاں بھی موجود ہے اس میں تشبہ مکروہ وممنوع ہے جیسے رسول اللہ ﷺ نے فارسی کمان کے استعمال سے منع فرمایا ہے اور فرمایا: ’’علیکم بالقوس العربی بہا یفتح اللہ علیکم او کما قال‘‘کہ عربی کمان کا استعمال کیا کرو، اللہ تعالیٰ تم کو اسی کے ذریعہ سے فتوحات دیں گے۔۲؎ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اللہ تعالی نے عربی اسلحہ ہی سے صحابہ کو فتوحات عطا فرمائیں ۔ تو آپ نے فارسی کمان سے اس لئے منع فرمایا کہ اس کا بدل مسلمانوں کے پاس عربی کمان موجود تھی اور دونوں کی منفعت برابر تھی صرف ساخت کا فرق تھا۔ اسلام میں تعصب نہیں جیسا کہ اس تفصیل سے معلو م ہوگیا ہاں اسلام میں غیرت ہے کہ جو چیز مسلمانوں کے پاس بھی ہے اور کفار کے پاس بھی ہے، صرف وضع قطع کا فرق ہے اس میں بھی اسلام نے تشبہ بالکفار سے منع کیا ہے، اس میں گناہ کے علاوہ ایک بے غیرتی بھی تو ہے کہ بلاوجہ اپنے کو دوسری قوموں کا محتاج ظاہر کیا جائے ------------------------------ ۱؎ الحدود والقیود ۲۵؍ ۴۷ ۲؎ مشکوۃ ص ۳۳۸جلد۲