فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
دونوں جمع ہوجاتے ہیں جیسے منبر سے نیچے نماز پڑھنا کہ صلوۃ تحت المنبر عملاً بھی کثیر ہے، صلوۃ فوق المنبر کا وقوع قلیل ہے اور مقصودیت بھی تحت المنبر میں ہے، اور زیادہ تر ایسا ہی ہے کہ جو عمل وقوع میں کثیر ہوتا ہے مقصودیت بھی اس میں غالب ہے مگر بعض دفعہ اس کے خلاف بھی ہوتا ہے، اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے آپ کی عادت و سنت کا سمجھنا ہر شخص کا کام نہیں بلکہ محقق کا کام ہے، یہ بات قابل تحقیق و تدقیق ہے کہ مقصودیت کہاں ہے کہاں نہیں ، اس لیے کسی بزرگ کے عمل کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کثیر کے خلاف اور عمل قلیل کے موافق دیکھ کر ان پر اعتراض نہ کرنا چاہئے بلکہ یہ سمجھنا چاہئے کہ ممکن ہے ان کے نزدیک عمل قلیل ہی مقصودیت ہو۔ مثلاً شاہ فضل الرحمن صاحب میں تیزی غالب تھی اور یہ بات حضور کی عادت غالبہ کے بظاہر خلاف ہے تو اپنے کو تو تم متہم سمجھو، اگر تمہارے اندر ایسا ہو، مگر بزرگوں پر اعتراض نہ کرو بلکہ یہ تاویل کرو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تیزی مقتضیٰ کی وجہ سے تھی یعنی معتوب کی بیہودگی کی وجہ سے اور اُس وقت بوجہ سلامت طباع کے اس مقتضیٰ کا وجود کم تھا، اس لیے تیزی کا وقوع بھی آپ سے کم ہوا، (اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی مقتضیٰ کا وجود زیادہ ہوتا تو آپ کی تیزی کا وقوع بھی زیادہ ہوتا جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام میں ہوا) اور اب مقتضیٰ زیادہ ہے، اس لیے شاہ صاحب میں اس کا ظہور زیادہ ہوا۔ غرض اس طریق میں چین و اطمینان اور بے فکری جائز نہیں ، چنانچہ اتباعِ سنت کی حقیقت عادت غالبہ کا اتباع بتلایا گیا تھا، اب عادت غالبہ کی تحقیق میں خدشہ پیدا ہوگیا کہ اس کا مدار بھی محض کثرت عمل پر نہیں رہا، اب قدم قدم پر غور و فکر کی ضرورت ہے کہ کہاں عمل غالب ہے مع مقصودیت کے اور کہاں مقصودیت غالب ہے بدون عمل کے۔۱؎ ------------------------------ ۱؎ الغالب للطاللب ملحقہ نظام شریعت ص:۳۳۸