فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
سو اول تو یہی متکلم فیہ ہے کہ بیس کا ثبوت نہیں ۱؎ لیکن ب عد تسلیم کے ہم کہتے ہیں کہ جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس رکعت نہیں پڑھیں اسی طرح آپ نے تراویح تین دن سے زائد نہیں پڑھیں ، پس تم بھی عمر بھر میں تین دن سے زائد نہ پڑھو، کیونکہ حدیث میں زائد کا ثبوت نہیں ، اس لیے یہ بدعت ہے، پس جس دلیل سے تم استمرارِ عمل کا بدعت نہ ہونا ثابت کرو گے اور وہ عمل ہے صحابہ کا، اسی دلیل سے ہم بیس رکعت کا بھی بدعت نہ ہونا ثابت کردیں گے۔ خلاصہ یہ کہ عادت غالبہ معلوم کرنے کا مدار صرف کثرت عمل پر نہیں ہے بلکہ کبھی عادت کا غالب ہونا کثرتِ وقوع عمل سے معلوم ہوتاہے اور کبھی غلبۂ مقصودیت سے معلوم ہوتا ہے اور اس کے لیے تراویح کی نظیر کافی ہے کیونکہ یہاں وقوع کے اعتبار سے تو عمل قلیل ہے مگر مقصودیت کے اعتبار سے غالب ہے، پس یہاں عمل کی قلت و کثرت پر مدار نہ ہوگا۔ اسی طرح رفع یدین و عدم رفع میں فقہاء نے کثرت عمل و قلت عمل کو نہیں دیکھا بلکہ مقصودیت پر نظر کی ہے، بعض نے رفع کو مقصود سمجھا کیونکہ نماز فعل وجود ی ہے اور رفع بھی وجود ی ہے،تو دونوں میں تناسب ہے، اور بعض نے عدم رفع کو مقصود سمجھا کیونکہ نماز کا مبنیٰ سکون پر ہے، حدیث مسلم میں ہے اُسْکُنُوا فِی الصلٰوۃ (نماز میں سکون سے رہو) اور تکرارِ رفع سکون کے منافی ہے، اور کہیں کثرت ومقصودیت ------------------------------ ۱؎ وروی مقسم عن ابن عباس قال کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یصلی فی شہر رمضان فی غیر جماعۃ بعشرین رکعۃ والوتر، ضعیف۔ (سنن بیہقی ۲؍۴۹۶) وروی ابو الخصیب کان یؤمنا سوید بن غفلۃ فی رمضان فیصلی خمس ترویحات عشرین رکعۃ۔ (سنن بیہقی) وروی ابوالحسناء ان علی بن ابی طالب امر رجلا ان یصلی بالناس خمس ترویحات عشرین رکعۃ۔ (سنن بیہقی ۲؍۴۹۶) (الفقہ الحنفی وادلتہ ۱؍۲۲۷، للشیخ اسعد)