فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
اور حضرت حسنؓ نے اس کی مخالفت فرمائی، اور کہا کہ ہم معصیت کی موجودگی کی وجہ سے طاعت سے محروم ہوجائیں گے، اور یہ ہمارے دین کی بربادی کا آسان راستہ ہوگا۔ اور شہاب مقدسی سے نقل کیا ہے ہمارے فقہاء کے نزدیک یہ حکم ہے کہ کسی طاعت مطلوبہ کو کسی بدعت کی وجہ سے نہیں چھوڑا جا سکتا جیسے کسی ولیمہ کی دعوت کو قبول نہ کرنا، اس بناء پر کہ وہاں لہو ولعب ہے یا جنازہ میں شرکت نہ کرنا اس وجہ سے کہ وہاں نوحہ کرنے والی عورت ہے، بلکہ یہ ہونا چاہئے کہ ولیمہ اور جنازہ میں شریک ہو اور جو گناہ کا کام ہورہا ہو اس کو روکے اگر روکنے پر قدرت ہو ورنہ صبر کرے۔ اور یہ جب ہے کہ ایسا کرنے والا قوم کا مقتدا نہ ہو اور اگر مقتداء ہے تو اس کو شرکت نہیں چاہئے۔ نیز اس کلام کی تائید علامہ شامی کے کلام سے ہوتی ہے جو فصل اتباع الجنائز میں لکھا ہے۔ قول الدر المختار (ولایترک اتباعہا لاجلہا) ای لأجل النائحۃ لأن السنۃ لاتترک بما اقترن بہا من البدعۃ، ولا یرد الولیمۃ حیث یترک حضورہا لبدعۃ فیہا للفارق بأنہم لو ترکوا المشی مع الجنازۃ لزم عدم انتظامہا ولا کذلک الولیمۃ لوجود من یاکل الطعام۔ (شامی ۱؍ ۶۵۸) ترجمہ: جنازہ کے پیچھے چلنا اس بناء پر نہیں چھوڑنا چاہئے کہ وہاں نوحہ کرنے والی عورت ہے کیونکہ اقتران بدعت کی وجہ سے سنت کو نہیں چھوڑا جاسکتا، اور یہ شبہ نہ کیا جائے کہ ولیمہ کی شرکت جب کہ وہاں کوئی بدعت ہو ترک کر دی جاتی ہے کیونکہ اگر نائحہ (نوحہ کرنے والی عورت)کی وجہ سے جنازہ کی شرکت چھوڑدی گئی تو جنازوں کا انتظام درست نہ رہے گا، بخلاف ولیمہ کے کہ ایک نے نہ کھایا تو دوسرے کھانے والے موجود ہیں ۔۱؎ ------------------------------ ۱؎ مجالس حکیم الامت ص ۲۸۳-۲۸۴