فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
چاہئے اور کہاں نہیں ۔۱؎ دونوں واقعوں میں فرق ہے جس کی وجہ سے ایک میں ملامت کے خوف کی رعایت کی گئی ہے اور ایک میں نہیں کی گئی، اللہ کا شکر ہے کہ میرے ذہن میں وہ فرق آگیا وہ یہ کہ کتاب وسنت میں نظر کرنے سے یہ قاعدہ مستنبط ہوتا ہے کہ وہ فعل (خواہ وہ مفضی الی المعصیت ہو یا دیگر مفاسد پر مشتمل ہو ) جولوگوں کے نزدیک قابل ملامت ہے اگرواجب یا مقصود فی الدین ہے تب تو بدنامی کے خوف سے (یا مفسدہ کے سبب سے) اس کو ترک نہ کیا جائے گا، اور اگر وہ فعل نہ تو واجب ہو اور نہ مقصود فی الدین ہو کہ اس کے ترک میں کوئی حرج ہوتو اس کو نہ کیا جائے گا۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے واقعہ میں جولوگوں کے بدنام کرنے (اور مفسدہ ) کی وجہ سے (نکاح) ترک نہیں کیا گیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ چونکہ زید بن حارثہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متبنیٰ تھے اور اس زمانہ میں عوام الناس متبنیٰ کی منکوحہ سے نکاح کرنے کو ناجائز اور حرام سمجھتے تھے تو عوام کے اس فاسد عقیدہ کی اصلاح کے لئے اس وقت صرف تبلیغ قولی کافی نہ تھی بلکہ ضرورت تھی کہ تبلیغ فعلی کی جائے اورنکاح کرنا، تبلیغ فعلی تھا، اور تبلیغ واجب فی الدین ہے لہٰذا یہ نکاح کرنا مقصود فی الدین تھا، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں ملامت کی پرواہ نہیں کی بخلاف ادخال حطیم فی البیت کے کہ حطیم کا کعبہ کے اندر داخل کرنا کوئی شرعی مقصود بالذات نہیں اور نہ ہی دین میں کوئی ضروری فعل تھا بلکہ ایک فعل مستحسن تھا جس پر کوئی ضروری مقصود (بھی) موقوف نہ تھا، اس کے داخل نہ ہونے سے کون سا مقصود شرعی فوت ہوگیا (اس لئے یہاں پر بدنامی کی رعایت کر لی گئی)۔ (خلاصہ یہ کہ) مقاصد شرعیہ میں تو بدنامی کا کچھ خیال نہ کیا جائے اورغیر مقاصد میں بدنامی سے بچنا ہی مناسب اور سنت کے موافق ہے، جب یہ تفسیر میرے سمجھ میں آئی تو سارا غبار دور ہوگیا۔ ------------------------------ ۱؎ الافاضات الیومیہ ص ۴۸ جلد نہم جز اول