فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
ہواور نسب کا انکار نہ کرے اور خواہ غائب ہو، ہر حالت میں نسب ثابت ہوگا، اور ثابت ہونے کے معنی وہی ہوں گے جو اوپر ذکر کیے گئے کہ قانوناً ثابت ہوگا، (کیونکہ شرعی قانون ہے کہ) فراش کے ہوتے ہوئے نسب کو دوسری طرف نہیں لے جاسکتے، یعنی جب تک کہ میاں بیوی کا تعلق موجود ہے نسب کو ثابت ہی کہیں گے۔ الغرض کتب فقہ سے اور ادلہ شرعیہ سے یہ ثابت ہے کہ اس صورت میں جب کہ مرد دس۱۰ برس سے باہر ہے اور اس کی عورت کے بچہ پیدا ہوا ہو تو یہ بچہ مجہول النسب نہیں بلکہ اس کا نسب اس شخص سے مانا جائے گا اور تمام احکام نسب کے جاری ہوں گے۔ اس حکم میں تعجب کیا جاتا ہے کہ یہ کیسا حکم ہے؟ سو اس تعجب کا رفع کرنا گو کسی طرح ہمارے ذمہ نہیں مگر میں تبرعا اس کو بھی حل کررہا ہوں کہ اس کے کہنے کا کہ ’’یہ بچہ اس شوہر کا‘‘ ہے یہ مطلب نہیں ہے کہ حقیقت میں اس کا ہے بلکہ یہ مطلب ہے کہ قانون میں اس کا ہے، اب سارے اشکالات اور تعجب رفع ہوگئے۔ اور نسب جب بھی ثابت ہوگا اس کا ثبوت قانونی ہی ہوسکتا ہے کیونکہ اس کی بناء بالکل ایک خفی (پوشیدہ) امر یعنی جماع پر ہے، لہٰذا اس کے ثبوت کے لئے اس کے ظاہری ذریعہ ہی کو کافی مانا جائے گا یعنی نکاح کو۔ اور میں ترقی کرکے کہتا ہوں کہ جس کو بالاتفاق صحیح النسب کہا جاتا ہے اور اس کے باپ کی طرف منسوب کرتے ہیں اس میں بھی تو یہی ماننا پڑتا ہے کہ ظاہری سبب یعنی نکاح موجود ہے، اس وجہ سے حقیقی سبب یعنی جماع کو بھی مان لیا گیا اور اس کی نسبت نکاح کرنے والے کی طرف کی گئی، اور اس کو باپ کہاگیا ورنہ یہ علم کیسے ہوکہ بچہ واقع میں کس کا ہے، حقیقی سبب کو (یعنی جماع کرتے) تو کسی نے دیکھا ہی نہیں اور ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ شوہر کے ہوتے ہوئے بھی دوسرے کا حمل ہوگیا، غرض اس کا یقینی علم کسی طرح نہیں ہوسکتا کہ یہ بچہ اپنے باپ ہی کا ہے، اس کا علم تو اﷲ تعالیٰ کو ہے یا میاں بیوی کو ہے، باقی دوسرے لوگ جس کو صحیح النسب مانتے ہیں اس کی نسبت کون سا