فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
اول میں بھی مزاحمت نہیں کرتے بلکہ خاص حالات میں دوسروں کو صف اول میں جگہ دیتے ہیں اور خود صف ثانی یا ثالث میں کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ صوفیہ جماعت صلوۃ مفروضہ میں بھی صف اول میں ایثار کرتے ہیں اگر کوئی ان کا بزرگ آجائے تو وہ اس کو مقدم کردیتے ہیں اس پر فقہاء خشک اعتراض کرتے ہیں کہ تم نے صف اول کے ثواب کو چھوڑ دیا جس میں استغناء عن الثواب ہے۔ صوفیہ کہتے ہیں کہ ایک ثواب تو صف اول میں کھڑے ہونے کا ہے اور دوسرا ثواب تعظیم اہل اللہ کا ہے جو اس سے بڑھا ہوا ہے تو ہم ظاہر میں گو ایک ثواب کے تارک ہوئے مگر باطن میں دوسرے بڑے ثواب کے جامع ہوئے تو استغناء عن الثواب کہاں ہوا، اس میں بھی تو طلب ثواب ہی ہے۔ پھر شرعی قاعدہ ہے الدال علی الخیر کفاعلہ، یعنی خیر کو بتانا (اس کا ذریعہ بننا) مثل اس کے کرنے کے ہے، اس بناء پر جس کو ہم نے صف اول میں کھڑا کیا ہے اس کو جو صف اول کی فضیلت ہمار ی وجہ سے حاصل ہوگی اس کا ثواب بھی ہم کو ملے گا تو ہم صف اول کے ثواب سے محروم نہ ہوئے اور اس کے ساتھ دوسرے ثواب کے جامع ہوگئے ہمیں اس صورت میں دوہرا ثواب ملا۔۱؎ ------------------------------ ۱؎ التبلیغ :۱۴؍۴۹ و ۵۴