فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
(مسئلہ)شیخ کی اجازت کے بعد توشیخ کی جگہ یامصلے پر نماز پڑھنے اور ذکر کرنے کا مضائقہ نہیں ،بغیر اجازت کے ایسا نہ کرنا چاہئے ،اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جوحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پرنماز پڑھا کرتے تھے اس کا منشااتباع تھا، دعویٰ مساوات نہ تھا ۔ نیز ایک بات اور ہے وہ یہ کہ ادب کامبنیٰ عرف پر ہے اور تبدل عرف سے عرفیات کا حکم بدل جاتا ہے توصحابہ کے زمانہ میں کسی کی جائے نماز پر نماز پڑھنا خلافِ ادب نہ تھا اور اب عرف بدل گیا ہے تواب یہ ادب نہ ہوگا، کیونکہ جو امور مقصود شرعی نہ ہوں ان کے احکام زمانہ کے تبدّل سے بدل جاتے ہیں ،ہاں مقاصد شرعیہ نہیں بدل سکتے،پس اب سمجھئے کہ ایذاء سے بچنا تو مقصود شرعی ہے ،یہ تو کسی حال میں نہیں بدل سکتا رہا یہ کہ کون سی بات موجبِ ایذا ء ہے اور کون سی نہیں یہ تبدلِ زمان وتبدلِ مکان سے بدل سکتی ہے کہ ایک فعل زمانۂ سابق میں موجبِ ایذاء نہ ہو ،آج کل موجب ایذاء ہو ،یاایک فعل بلاد عرب میں موجب ایذا نہ ہو بلاد عجم میں موجبِ ایذاء ہو ۔ شیخ کے مصلے پر نماز پڑھنے کے متعلق ایک اور بات قابل تنبیہ ہے وہ یہ کہ بعض لوگ جائے قدم پر سجدہ کرتے ہیں اس میں شرک کا قوی اندیشہ ہے ،اس کا ہرگز قصد نہ کیاجائے ،اتنی بات اور سمجھ لینا چاہئے کہ ایک توسجدہ للقدم ہے کہ جائے قدم کو بوسہ کیا جائے تویہ شرک صحیح ہے ،اور ایک سجدہ علی القدم ہے کہ حصول برکت کی نیت سے جائے قدم پر سجدہ کیا جائے یہ شرک صریح نہیں مگرخطرہ سے خالی نہیں ،اگر ایسا ہی کسی کو شوق ہو تووہ موضع قدم (پراپنے قدم )رکھے اور موضع سجود پر سجدہ کرے، موضع قدم پر سجدہ نہ کرے، اور یقینا عبداللہ بن عمر ایسا ہی کرتے ہوں گے کیونکہ ان کا مقصود محض اتباع تھا اور اتباع اسی میں ہے کہ جہاں حضور کے قدم پڑے ہوں وہاں قدم رکھے جائیں اور جہاں آپ نے سجدہ کیا ہو وہاں سجدہ کیاجائے ۔(الارتیاب والاغتیاب ملحقہ اصلاح اعمال ص۵۲۴)