فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ میں شراب پر کوئی احتساب کیا گیا، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ نئی بات کیوں ایجاد کی اور کیوں اتنی سختی کی؟ تو اس کا جواب دیا جائے گا کہ اس زمانہ میں لوگ اتنی شراب نوشی نہ کرتے تھے لہٰذا اس کی ضرورت نہ تھی،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں عوام کی حالت میں فرق آگیا اور لوگوں نے زیادہ شراب نوشی شروع کردی تو پھر شراب پر احتساب کی بھی ضرورت ہوئی۔ ایسے ہی میں کہتا ہوں کہ پہلے زمانہ کے عوام میں اور آج کل کے عوام میں زمین وآسمان کا فرق آگیا ہے، پہلے بزرگوں کے زمانہ میں جو عوام الناس کی حالت تھی وہ حالت آج کل کے عوام الناس کی نہیں ، مثلاً جو خلوص وسادگی پہلے تھی اب اس کانام ونشان نہیں اس لئے اب معالجہ کی صورت بھی بدل گئی۔ اور فرمایا : آج ایک حدیث نظر سے گذری ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آئندہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ُاس زمانہ میں لوگ بھیڑیئے ہوجائیں گے اور جوشخص اس زمانہ میں بھیڑ یا نہ بنے گا تو اس شخص کو لوگ کھا جائیں گے۔۱؎ ------------------------------ ٭( صفحہ ۲۸۵ کا حاشیہ)غیرمقلدین کے بڑے عالم علامہ مبارک پوری ؒ تحفۃ الاحوذی میں تحریر فرماتے ہیں : أن صحیح البخاری ماقریٔ فی شدۃ الافرجت ولارکب بہ فی مرکب الانجت، قلت: قد أجاز کثیرمن اہل العلم فی ہٰذالزمان قرأۃ صحیح البخاری وختمہ‘ لشفاء الأامراض ودفع المصائب وحصول المقاصد فیجتمعون ویقرأ بعضہم الجزء الاول منہ مثلاً وبعضہم االجزء الثانی وبعضہم الثالث وہٰکذا فیجتمعون باجتماعہم ثم یدعون اللہ تعالیٰ لشفامرضاہم أولدفع مصائبہم أولحصول مقاصدہم ،واستدلواعلیٰ ذالک بان قرأتہ‘ بتمامہٖ رقیۃ لشفاء المرضیٰ ودفع المصائب وحصول المقاصد۔۔۔۔۔والرقیۃ بما لیس فیہ شرک ولا کلمۃ لایفہم معناہا جائزۃ بالاتفاق۔۔۔۔وجواز الاسترقاء بہٖ لایتوقف علی ثبوت کونہٖ رقیۃ من الکتاب والسنۃ الخ (مقدمہ تحفۃ ألاحوذی ص۹۳) ۱؎ القول الجلیل ص ۴۰