فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
انہیں بتلائے گئے تو انہوں نے اس کو کم سمجھا اور کہا کہ ہم اپنے کو حضور پر کیسے قیاس کرسکتے ہیں حضور کے تو اگلے پچھلے سب زلات (لغزشیں ) معاف ہوچکے ہیں ، ہمیں یہ بات کب نصیب ہے اس لئے ہم کو بہت زیادہ مجاہدہ کی ضرورت ہے۔ پس ایک نے کہا کہ میں نکاح ہی نہ کروں گا، ایک نے کہا کہ میں اتنی عبادت کروں گا کہ سوؤں گا نہیں ، ایک نے کہا کہ میں ہمیشہ روزہ ہی سے رہوں گا افطار نہ کروں گا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب مکان پر تشریف لائے تو آپ کو ان تینوں کی باتیں معلوم ہوئیں آپ کو ناگوار ہوا اور فرمایا یاد رکھو! میں سوتا بھی ہوں جاگتا بھی ہوں نکاح بھی کرتا ہوں کھاتا بھی ہوں روزہ بھی رکھتا ہوں ، خوب سمجھ لو! یہ میرا طریقہ ہے اور جو شخص میرے طریقے کو چھوڑے گا اس سے مجھے کوئی تعلق نہیں ۔ دیکھئے! ان لوگوں پر آپ نے غلو فی الدِّین کی وجہ سے کتنا بڑا تشدد فرمایا کہ ایسے شخص کا مجھ سے کوئی علاقہ نہیں ۔ ایسا ہی ایک اور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ مسجد میں تشریف لائے دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان میں ایک رسی بندھی ہے آپ نے دریافت کیا کہ یہ رسی کیسی ہے صحابہ نے عرض کیا رسی زینب نے باندھی ہے ،جس وقت ان کو نوافل پڑھتے پڑھتے نیند ستاتی ہے تو کسل (سستی اور نیند) ختم کرنے کے لئے اس پر سہارا لگالیتی ہیں آپ نے یہ سن کر فوراً اس کو توڑ ڈالا اور فرمایا کہ نفس پر اتنا تشدد نہ کرنا چاہئے اور فرمایا کہ جب نیند آئے سو رہو، جب کسل رفع ہوجائے پھر مشغول ہوجاؤ۔ شریعت تو یہ ہے، ان آیتوں اور احادیث کو فقہاء نے خوب سمجھا ہے ان کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تقوی طہارت مت کرو، بلکہ تقوی طہارت میں تو خوب کوشش کرو مگرحد سے آگے مت بڑھو۔۱؎ ------------------------------ ۱؎ التبلیغ احکام المال ۱۰؍ ۶۹ج، وص ۷۰