فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
بچے، یہ بھی ایک درجہ اتباع کا ہے کہ مباحات شرعیہ پر عمل کرلے، گو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مباحات کو نہ کیا ہو اور یہ بھی نجات کے لیے کافی ہے، میں غلو نہیں چاہتا گویہ مضمون میری نظر میں بہت اہم ہے جس کو میں بیان کرنا چاہتا ہوں ، مگر میں حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہتا کہ مباحات پر عمل کرنے کو ناکافی کہہ دوں ، ہرگز نہیں ! بلکہ میں صاف کہتا ہوں کہ مباحات پر عمل کرنا بھی اتباع میں داخل اور نجات کے لیے کافی ہے۔ دوسرا درجہ اتباع کا یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادات و افعال کا اتباع کیا جائے،یہ کامل اتباع ہے اور اس کے لیے ضرورت ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و عادات و افعال و طریق عمل کے معلوم کرنے کی، پھر اس میں بھی تین درجے ہیں ایک عبادات میں اتباع، دوسرے معاملات میں اتباع، ان میں توجہاں تک ہوسکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کا اتباع کرے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقِ عمل کی تلاش کرے کیونکہ ان کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے اور مخلوق سے ہے اور ایک یہ کہ ماکولات و مشروبات میں اتباع کیا جائے کہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا وہی کھائے ، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا وہی پئے، جو آپ نے پہنا وہی پہنے، اس میں جس قدر سہولت ہوسکے اتباع کیا جائے مبالغہ نہ کیا جائے، کیونکہ اس میں مبالغہ کرنا بعض اوقات ہم جیسے ضعفاء کے تحمل سے ہوتا ہے اور یہ اقویاء کا کام ہے۔ جیسے حضرت خواجہ بہاء الدین کی یہی تحقیق ہے جس کا قصہ یہ ہے کہ آپ کی مجلس میں حدیث پڑھی گئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہ کھاتے تھے بلکہ آٹے کو پیس کر پھونک سے بھوسا اڑادیا جاتا تھا، جواڑ گیاوہ اڑ گیا باقی کو گوندھ کر پکالیا جاتا تھا، خواجہ صاحب نے فرمایا کہ آج سے ہمارے واسطے بھی اسی طرح آٹا گوندھا جائے اور چھلنی میں نہ چھانا جائے ،شام کو جو روٹی اس طرح کھائی گئی سب کے پیٹ میں درد ہوگیا، حضرت شیخ نے فرمایا کہ ہم نے بڑی گستاخی کی کہ حضور صلی اللہ علیہ