فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
غالب گمان یا یقین ہوتو وہ فعل اس کے حق میں بھی مباح نہیں رہتا۔ تو اس قاعدہ سے یہ اعمال وافعال اس محفوظ شخص کے حق میں بھی اس وجہ سے کہ دوسرے تقلید کرکے خراب ہوں گے (اس کے لئے بھی) ناجائز ہوں گے۔ اس شرعی قاعدہ کا حاصل وہ ہے جس کو عقلی قانون میں قومی ہمدردی کہتے ہیں ، یعنی ہمدردی کا مقتضا یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو دوسروں کو نفع پہنچاؤ ،اگر یہ بھی نہ ہو تو دوسروں کو نقصان تو نہ پہنچاؤ، کیا کوئی باپ جس کے بچے کو حلوا نقصان کرتا ہے اس کے سامنے بیٹھ کر حلوہ کھانا محض مزے کے لئے پسند کرے گا؟ کیااس کو خیال نہ ہوگا کہ میری حرص سے شاید بچہ بھی کھائے اور بیماری بڑھ جائے، کیا ہر مسلمان کی ہمدردی اسی طرح ضروری نہیں ؟۱؎ اس حفاظت کی ایسی مثال ہے جیسے آپ کا بچہ بیمار ہے اور اس کو طبیب نے حلوا مضر بتایا ہے تو آپ اس کو ضرر سے بچانے کے لئے یہاں تک اہتمام کریں گے کہ آپ خود بھی حلوا نہیں کھائیں گے۔ دیکھئے گو آپ کے لئے طبیب نے حلوے کو مضر نہیں کہا لیکن پھر بھی چونکہ بچہ سے آپ کو محبت ہے اس لئے اگر آپ کا جی بھی چاہے گا تب بھی حلوا نہ کھائیں گے تاکہ آپ کو دیکھ کر آپ کے بچہ کا بھی کہیں جی نہ للچا جائے اور کھاکر ضرر میں نہ مبتلا ہو جائے، اس کی حفاظت کے لئے آپ نے اپنی مرغوب بلکہ مفید شئی کو اپنے لئے ناجائز کرلیا۔ یہ معنی ہیں فقہاء کے بعض افعال مستحبہ کو مکروہ کہنے کے جس کی فضیلت حدیث میں ہے، معترضین یہی نہیں سمجھتے کہ (ایسے اعمال مستحبہ کو بھی) کیوں مکروہ کہتے ہیں ، جو میں نے مثال دی ہے، اس میں کبھی نہ اعتراض کیا کہ حلوے سے منع تو کیا تھا بچہ کو اور گھر کے ذمہ دار نے منع کردیا گھر والوں کو بھی۔۲؎ ------------------------------ ۱؎ امداد الفتاوی ۵؍ ۲۷۹ ۲؎ الافاضات الیومیہ ۱۰؍ ۸۰