فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
ہے، لیکن مفسدہ یہ دیکھا کہ اس کو ضروری سمجھنے لگیں گے اور اس کو اپنی حد پرنہ رکھیں گے اس لیے اس کو مکروہ ٹھہرادیا۔ دوسری نظیر اور لیجئے کہ جناب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ حضور نے صبح کی نماز میں جمعہ کے روز اول رکعت میں سورۃ الم سجدہ اور دوسری میں سورۃدہر پڑھی ہے مگر فقہاء نے دیکھا کہ لوگ اس کو اپنی حد پر نہ رکھیں گے اس لیے تعیّن سورت کومکروہ کہہ دیا، پس جو مباح بلکہ مندوب بھی سبب ہوجاوے معصیت کا اور تجازو عن الحد کا وہ مکروہ ہوگا، غرض ہمارے عمل کے لیے کتب فقہیہ میں بھی اس کا مذکور ہونا کافی ہے۔ لیکن تبرعاً کہتا ہوں کہ یہ مسئلہ قرآن مجید سے بھی ثابت ہے، دیکھو حق تعالیٰ فرماتے ہیں ’’ وَلَا تَسُبُّوْا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوْا اللّٰہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ‘‘ یعنی اے مومنو! ان بتوں کو کہ جن کو یہ مشرکین سوائے اللہ کے پکارتے ہیں سب و شتم مت کرو، کیونکہ یہ اللہ کو حد سے متجاوز ہوکر بغیر علم کے برا کہیں گے، دیکھئے بتوں کی برائی کرنا مباح بلکہ طاعت ہے، تاکہ لوگوں کو اس سے نفرت ہو مگر جب احتمال اس کا ہو کہ یہ سبب ہوجائے گا اللہ تعالیٰ کو برا کہنے کا اس حالت میں منہی عنہ ہے، یہ آیت صاف بتلارہی ہے کہ جو مباح بلکہ مندوب بھی سبب ہوجاوے معصیت کا وہ بھی معصیت ہے اور اس سے زیادہ کون سی دلیل ہوئی کہ سبِّ اصنام عین طاعت تھا اور وہ ممنوع ہوگیا۔ اورحدیث لیجئے! حدیث میں ہے کہ جناب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سب سے برا وہ شخص ہے جو اپنے ماں باپ کو گالی دے صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ماں باپ کو کون گالی دیا کرتا ہے، فرمایا کہ یہ کسی کے ماں باپ کو گالی دے اور وہ اس کے ماں باپ کو گالی دے ،معلوم ہوا کہ جو فعل معصیت کا سبب ہو وہ بھی اسی کے حکم میں ہے۔ یہاں کوئی طالب علم شبہ نہ کرے کہ اس حدیث سے اس مسئلہ پر تو استدلال