فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
مگر (چونکہ) صحابہ کو اس وقت تک معلوم نہ تھا کہ یہ امر خلاف تواضع ہے، اس لیے ان کو گناہ نہیں ہوا، مگر روک ٹوک اس لیے کی گئی تاکہ مادہ ضعیف نہ ہوجائے اور اس کے ضعف سے کبر کا مادہ قوی ہوگا اور یہ ضرر مفضی ہے معاصی کی طرف۔ حاصل یہ کہ یہ روک ٹوک بطور سد ذریعہ کے ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر و عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا کہ اصل مقصود طلوع و غروب کے وقت نماز سے منع کرنا ہے مگر سدّ ذریعہ کے لیے بعد فجر و عصر کی نماز سے روک دیا تاکہ فجر و عصر کے بعد نماز پڑھنے سے کہیں یہ سلسلہ ممتد نہ ہوجائے، اور عین وقت طلوع وغروب میں نماز واقع نہ ہوجائے۔۱؎ مباح میں اس قدر توسع کرنا کہ کسی درجہ میں نہ رُکے یہ مناسب نہیں ، اور دلیل اس کی یہ ہے کہ آدم و حوا علیہما السلام کو حکم ہوا تھا کہ وَلَا تَقْرَبَاہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ یعنی اس درخت کے قریب مت جاؤ، حالانکہ منہی عنہ اکل شجرہ ہے، لیکن منع کیا گیا اس کے پاس جانے سے، اس لیے کہ حق تعالیٰ نہایت رحیم و کریم ہیں ، انہوں نے دیکھا کہ جب پاس جاویں گے تو پھر رکنا دشوار ہے، اس لیے پاس جانے سے ہی روک دیا جیسے بچے کو شفیق باپ کہتا ہے کہ دیکھو بیٹا چولہے کے پاس نہ جانا، حالانکہ جانتا ہے کہ چولہے کے پاس جانا کچھ مضر نہیں لیکن ساتھ ہی اس کے یہ بھی جانتا ہے کہ پاس جاکر بچنا مشکل ہے، اس لیے روکتا ہے۔ آدم علیہ السلام کی تخصیص نہیں بہت جگہ تمام بندوں کو خطاب کرکے ایسا ہی ارشاد فرمایا ہے تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلَا تَقْرَبُوْہَا اور کہیں یہ بھی اصل کے موافق فرمادیا فلَا تَعْتَدُوْہَا ۔۲؎ فقہاء نے بہت مواقع میں بعض مباحات کو سدًّا للذرائع وحسما ً لمادۃ الفاسد تاکید سے روکا ہے۔۳؎ ------------------------------ ۱؎ الارتیاب والاغتیاب ص:۵۲۱، بیان القرآن پ:۲۶ سورۂ حجرات ۲؎ وعظ الجناح ملحقہ مفاسد گناہ ص:۱۰۳ ۳؎ امداد الفتاوی ۴؍۷۲