فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
قید کے جائز ہونا چاہئے اور یہ حکم اصلی ہے لیکن اس کے نتائج مضر پر نظر کرکے اس میں لائسنس کی قید قانوناً لگا دی گئی،یا فواکہ (پھلوں ) کی تجارت، اس کی اصل کا مقتضیٰ یہ ہے کہ ہر حال اور ہروقت جائز ہو مگر وبا کے زمانے میں طبی اصول پر تجارت کو منع کردیا جاتا ہے اور ایسے عوارض اگر ممتد ہوں تو حکم بھی ممتد ہوتا ہے،مثلاً اسلحہ کی آزاد تجارت میں ہمیشہ مضرت کا اندیشہ تھا وہاں ممانعت دوامی ہوگئی، فواکہ کی مضرت موسم کے ختم ہوجانے سے ختم ہوجاتی ہے وہاں ممانعت بھی ختم ہوجاتی ہے۔۱؎ نظیر اس کی مسجد الحرام ہے جب تک اس پر مشرکینِ مکہ مسلط رہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہاں نماز بھی، بیت اللہ کا طواف بھی فرماتے رہے۔ اسی درمیان میں وہ زمانہ بھی آیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے عمرہ کے لئے مکہ تشریف لائے اور مشرکین نے آنے نہیں دیا پھر اس پر صلح ہوئی کہ تین روز کے لئے تشریف لائیں اور عمرہ کر کے چلے جائیں آپ نے اس صلح کو قبول فرمایا اور وقت محدود تک قیام فرما کر واپس تشریف لے گئے یہ سب اس وقت ہوا جب آپ کا تسلط نہ تھا، عذر کی حالت میں آپ نے اس حکم عارضی پر عمل فرمایا جب اللہ تعالی نے آپ کو باقاعدہ مسلط فرمادیا اس وقت اصلی حکم پر عمل فرمایا۔۲؎ حکم اصلی یہ تھا کہ مساجد ہر طرح آزاد ہیں ان میں کسی وقت کسی کو نہ نماز پڑھنے سے ممانعت کی جائے نہ آنے جانے سے روکا جائے، إلاَّ لمصالح المساجد اوریہ حکم اس وقت ہے جب مسلمان کسی شورش (اور فتنہ) کے بغیر اس پر قادر ہوں ۔ اور حکم عارضی یہ ہے کہ جس صورت پر صلح کی جاتی ہے اس پررضا مند ہوجائیں اوریہ حکم اس حالت میں ہے جب مسلمان حکم اصلی پر قادر نہ ہوں ۔۳؎ ------------------------------ ۱؎ امدادالفتاویٰ ۴؍۱۹۴ ۲؎ ملفوظات اشرفیہ ص:۳۹۹ ۳؎ ملفوظات اشرفیہ ص ۹۹