فقہ حنفی کے اصول و ضوابط مع احکام السنۃ و البدعۃ ۔ اضافہ شدہ جدید ایڈیشن |
|
الْجَنَّۃِ قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اﷲِ أفَلاَ نَتَّکِلُ عَلٰی کِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ۔؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا إعْمَلُوْا فَکُلٌّ مُیَسّرٌ لِمَا خَلَقَ لَہٗ اَمَّا مَنْ کَانَ مِنْ اَہْلِ السَّعَادَۃِ فَسَیُیَسّر لِعَمَلِ السَّعَادَۃِ۔ الخ۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی فَأمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی وَأمَّا مَنْ بَخِلَ الآیۃ۔ اب اس پر سوال ہوتا ہے کہ اس آیت میں تقدیر کا ذکر کہاں ہے؟ آیت کا مدلول تو یہ ہے کہ اِعطا وتقویٰ سے جنت آسان ہوجاتی ہے اور بخل واستغناء سے دوزخ آسان ہوجاتی ہے، اس کا جواب شاہ صاحب نے دیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور علم اعتبار کے اس آیت کے مضمون سے حدیث کے مضمون پر استشہاد فرمایا ہے اورمقصود تشبیہ دینا ہے کہ جیسے بواسطہ بعض اعمال کے بعض کے لئے جنت اور بعض کے لئے دوزخ کو آسان کردیا ہے۔ اسی طرح بواسطہ تقدیر کے بعض کے لئے اعمال صالحہ کو، بعض کے لئے معاصی کو آسان کردیا ہے اور یہ تشبیہ محض توضیح کے لئے ہے کہ تقدیر سے تیسیرویسی ہی ہوجاتی ہے جیسی اس آیت میں تیسیر اعمال سے مذکور ہے پس مقصود تشبیہ سے توضیح ہے، شاہ صاحب نے حدیث کی شرح میں علم اعتبار کی اصل قرآن سے بتلائی ہے۔ حدیثوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم اعتبار کا استعمال فرمایا ہے بڑے شخص کے سر رکھ کر میں یہ کہہ رہا ہوں خود اتنی بڑی بات نہیں کہتا، کیونکہ یہ بڑا دعوی ہے اور اگر کوئی شاہ صاحب کے قول کو نہ مانے تو میں اس سے کہوں گا کہ پھر وہ ان حدیثوں کی شرح کردے، یقیناً ان حدیثوں میں کوئی علم وہبی ہے وجہ ربط بجز اس کے جو شاہ صاحب نے فرمایا بیان نہ کرسکے گا۔۱؎ ------------------------------ ۱؎ البدائع ص ۲۴۳