بیانات سیرت نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم |
|
یہود نے ان کی برائیاں شروع کردیں ، ابن سلام نے کہا: یَا مَعْشَرَ الْیَہُوْدِ! اِتَّقُوا اللَّٰہَ فَوَاللّٰہِ الَّذِيْ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ ہُوَ إِنَّکُمْ لَتَعْلَمُوْنَ أَنَّہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَأَنَّہُ جَائَ بِحَقٍّ۔ اے گروہِ یہود! اللہ سے ڈرو، اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، تم کو خوب معلوم ہے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں ، حق لے کر آئے ہیں ۔ یہودیوں نے کہا: ’’کَذَبْتَ‘‘ تم جھوٹ بولتے ہو۔ (بخاری: المناقب: باب ہجرۃ النبی) یہود کے متعلق ان کے جھوٹ، عناد اور سرکشی کا یہ پہلا تجربہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو حاصل ہوا، حضرت عبد اللہ بن سلام ؓداعئی اسلام اکی دعوت پر لبیک کہنے والے پہلے خوش قسمت یہودی ہیں ، اور پھر ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ انہیں زبانِ نبوت سے زندگی ہی میں جنت کی بشارت سنائی گئی۔حضرت سلمان فارسی: تلاش حق کا انوکھا سفر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی مدینہ منورہ آمد کے پانچ دنوں بعد پیش آنے والا اہم واقعہ حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قبولِ ایمان ہے، حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایران کے علاقے ’’رامہرمز‘‘ کے باشندے اور خاندانی مجوسی العقیدہ تھے، اپنے والدین اور خاندان سے بغاوت کرکے نصرانی بن گئے تھے، گھر والوں کی طرف سے اذیتوں کا بھی سامنا رہا، بالآخر شام آگئے، وہاں کے بڑے پادری کی خدمت میں رہنے لگے، اس نے اپنی موت کے وقت ’’موصل‘‘ میں مقیم ایک سچے پادری کی نشان دہی کی، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی خدمت میں پہنچ گئے، ایک مدت وہاں رہے، اس نے اپنی موت کے وقت ’’نصیبین‘‘