بیانات سیرت نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم |
|
(۲)دوسری قابل توجہ بات یہ ہے کہ احد کی یہ جنگ اہل ایمان کی جاں نثاری، وفاداری اور فداکاری کی بے نظیر مثال بن گئی، صحابہ نے عشق رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ایسے نمونے دنیا کے سامنے پیش کئے جن کی نظیر پیش کرنے سے دنیا قاصر وعاجز ہے، عافیت کدوں میں دعوائے محبت آسان ہے؛ لیکن قتل گاہوں اور رزم گاہوں میں یہ دعویٰ اور اس کا ثبوت پیش کرنا بہت عظیم مجاہدہ ہے، صحابہ نے یہ امتحان سر کرکے دکھادیا۔ (۳)پھر یہ کہ خواتین اسلام نے (جن میں حضرت فاطمہ، حضرت عائشہ، حضرت ام سلیم سرفہرست ہیں ) اس جنگ میں زخمیوں کی خدمت، ان کے علاج اور ان کے تحفظ کی فکر وانتظام کے ذریعہ ایک مثال قائم کی، اور یہی عمل بعد میں زنانہ نرسنگ کی بنیاد ثابت ہوا۔ (۴)احد کی اس ناکامی نے اہل ایمان کو خود احتسابی، اپنی کمزوریوں کے تجزیے اور اطاعت امیر نیز عسکری انتظام کی مکمل رعایت کی اہمیت کا احساس بخشا۔غزوہ حمراء الاسد مدینہ منورہ پہنچنے کے اگلے دن ۸؍شوال ۳؍ہجری اتوار کو خبر آتی ہے کہ قریش مکہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سے بھول ہوگئی، ہمیں مسلمانوں کو شکست دینے کے بعد مدینہ میں داخل ہوکر انہیں بالکل کچل دینا چاہئے تھا، اس لئے وہ دوبارہ حملہ کی تیاری سے آرہے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے غایت اطمینان کا مظاہرہ کیا، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم ۷۰؍مجاہدین کے ساتھ فوراً سفر جہاد پر روانہ ہوگئے، صحابہ تھکے ہوئے تھے، زخم خوردہ تھے، مگر حکم رسول اکی اطاعت میں وہ فوراً نکل کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم مقام حمراء الاسد تک پہنچے، خلافِ معمول یہ سفر پورے اعلان اور تکبیر کے نعرے کے ساتھ ہوا، اس کا اصل مقصد مشرکین کو مرعوب کرنا تھا، تاکہ وہ مدینہ کی طرف آنے کی ہمت نہ کریں ، ابوسفیان کو اس صورتِ حال کا علم ہوا تو اس نے کچھ مسافروں کے ذریعہ مسلمانوں کو ڈرانے کے لئے یہ پیغام بھیجا کہ تمام قریش متفق ہوکر مدینہ پر حملہ آور