بیانات سیرت نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم |
|
اکبر سے گونج اٹھا ہے، ہر گھر اور ہر در پر یہی صدا ہے: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ، اللّٰہ أَکْبَرُ جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔ قدم قدم پہ محبت کے موج زن طوفاں صدائے ’’جاء رسول ‘‘سے گونجتا ہے جہاں سرکار دوعالم اقبا میں داخل ہورہے ہیں ، تواضع اور عبدیت ہر ہر ادا سے نمایاں ہے، زبان پر قرآنی دعا کے یہ بول ہیں : رَبِّ اَدْخِلْنِی مُدْخَلَ صِدْقٍ وَاَخْرِجْنِی مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِی مِنْ لَدُنْکَ سُلْطَاناً نَصِیْراً۔ (الاسراء: ۸۰) میرے رب! مجھے اچھائی کے ساتھ داخل فرما، اچھائی کے ساتھ نکال، اور مجھے خاص اپنی بارگاہ سے ایسا اقتدار عطا فرما جس کے ساتھ تیری مدد ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر سکینت طاری ہے، آگے پیچھے پروانوں کا ہجوم ہے، یہ وحی نازل ہورہی ہے: فَإِنَّ اللّٰہَ ہُوَ مَوْلَاہُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُوْمِنِیْنَ، وَالمَلائِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَھِیْرٌ۔ (التحریم) اللہ آپ کامولی ہے،اور جبریل بھی اور صالح اہل ایمان بھی، اور اس کے بعد فرشتے آپ کے مدد گار ہیں ۔(زاد المعاد:۲/۵۴،سیرت سرور عالم: ۲/۷۳۵، نبی رحمت: ۲۵۱)قبا میں قیام قبا میں آباد قبیلہ بنو عمرو بن عوف کے سردار ’’کلثوم بن ہدم‘‘ کے مکان پر آقا صلی اللہ علیہ و سلم کا قیام ہوا، قبا میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے قیام کی مدت مختلف روایات کے مطابق ۵ یا ۱۲؍ یا ۲۵؍دن رہی، عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم گروہ در گروہ بارگاہ میں آتے رہے، شرف پاتے رہے اور ایمان وعرفان کی جوت جگاتے رہے۔(دیکھئے: سیرت سرور عالم :۲/۷۳۷-۷۳۸، زاد المعاد :۱/۸۷، سیرت النبی :۱/۲۸۳ بحوالہ مختلف کتب حدیث)