بیانات سیرت نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم |
|
صدیوں کی ظلمتیں ختم کردی جائیں ، انسانیت کے اس چمن میں جو صدیوں سے خزاں رسیدہ تھا، نئی اور تازہ بہار آجائے۔پہلی وحی کی آمد ۱۷؍رمضان المبارک کی تاریخ ہے، ۱۰؍اگست ۶۱۰ء کا دن ہے، محمد صلی اللہ علیہ و سلم اپنی عمر کے ۴۱ویں سال میں ہیں ، بارگاہ رب العزت کے قاصد، ناموسِ اکبر، سید الملائکہ، روح الامین، سیدنا حضرت جبرئیل علیہ الصلوٰۃ والسلام آئے ہیں ، کہتے ہیں : اِقْرَأْ پڑھئے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : مَا أَنَا بِقَارِئٍ میں پڑھ نہیں سکتا۔ اس پر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کواتنی زور سے دبایا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی طاقت جواب دینے لگی،پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو چھوڑا اور دوبارہ کہا : اِقْرَأْ پڑھئے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : مَا أَنَا بِقَارِئٍ میں پڑھاہوا نہیں ہوں ۔ اس پر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو دوبارہ زور سے بھینچا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے قوی جواب دینے لگے،پھر انہوں نے چھوڑا اور کہا :