بیانات سیرت نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم |
|
( میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم للہ کے رسول ہیں ) کے الفاظ نکلے، پھر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! یہود ایک بہتان باز قوم ہے، اگر انہیں پہلے میرے اسلام لانے کا پتہ چل گیا، تو بہتان تراشی کریں گے، بہتر ہوگا کہ آپ پہلے یہودیوں کو طلب فرمائیں ، اور ان سے میرے بارے میں دریافت کریں ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہود کو اپنے پاس بلایا، عبد اللہ بن سلام اندر چھپ گئے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَلامٍ فِیْکُمْ؟ عبد اللہ بن سلام تمہارے درمیان کس پائے کے آدمی ہیں ؟ یہود بولے: خَیْرُنَا وَابْنُ خَیْرِناَ وَأَفْضَلُنَا وَابْنُ أَفْضَلِنَا۔ وہ ہمارے سب سے بڑے عالم اور سب سے بڑے عالم کے بیٹے، ہمارے سب سے اچھے آدمی اور سب سے اچھے آدمی کے بیٹے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: أَرَأَیْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَلاَمٍ؟ اچھا یہ بتاؤ کہ اگر وہ مسلمان ہوجائیں تو؟ یہود بولے: أَعَاذَہُ اللّٰہُ مِنْ ذٰلِکَ۔ اللہ انہیں اس سے محفوظ رکھے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے آواز دی کہ: ابن سلام باہر آجاؤ، ابن سلام باہر آئے اور بآوازِ بلند توحید ورسالت کی گواہی دی، اتنا سننا تھا کہ یہود بول پڑے: شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا۔ یہ ہمارا سب سے برا آدمی ہے اور سب سے برے آدمی کا بیٹا ہے۔