بیانات سیرت نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم |
|
وہاں بہت سے زائرین کو رخصت کرکے مدینہ منورہ کی طرف سفر شروع کردیتے ہیں ۔غدیر خم کا خطاب سفر میں ایک مقام ’’غدیر خم‘‘ پر پہنچتے ہیں ، تو امت کو خطاب فرماتے ہیں : لوگو! میں بھی ایک انسان ہوں ، قریب ہے کہ اللہ کا فرشتہ آجائے اور میں بلالیا جاؤں ، میں تم میں دو چیزیں چھوڑکر جاتا ہوں ، ایک تو قرآن دوسرے میری سنت، ان کے حقوق ادا کرتے رہنا، کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس موقع پر امت کو اپنے اہل بیت کے حقوق ادا کرنے کی تلقین فرمائی۔(مسلم: الفضائل:باب من فضائل علی) پھر فرمایا کہ میں اہل ایمان کے نزدیک ان کی جانوں سے زیادہ محبوب ہوں ، پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ہاتھ پکڑکر فرمایا کہ: میں جس کا محبوب ہوں علی اس کے محبوب ہیں ، اے اللہ جو علی کو دوست رکھے تو اس کو دوست رکھ اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ، جو اسے رسوا کرے تو اسے رسوا فرما۔ (مشکوۃ المصابیح: المناقب: باب مناقب علی) اس موقع پر خاص طور پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا تذکرہ اس لئے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو کچھ لوگوں کے بارے میں معلوم ہوا تھاکہ ان کو بلاوجہ حضرت علی سے تکدر ہے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پر تنبیہ فرمادی۔(سیرت المصطفیٰ:۳/۱۵۱)مدینہ آمد اس کے بعد سفر شروع ہوا اور ۲۱؍ذی الحجہ کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم ذو الحلیفہ پہنچے، ایک شب وہاں