بیانات سیرت نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم |
|
سونگھ نہ سکے تو بجا ہے، مجھ پر مصیبتوں کا ایسا کوہِ گراں آیا ہے کہ اگر دنوں پر یہ کوہ گرتا تو وہ دن دن نہ رہتے؛ بلکہ اپنی روشنی کھوبیٹھتے۔ (رسول رحمت:۶۵۸)حضرت ام سلمہؓ کا درد دل حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنا دردِ دل یوں بیان کیا تھا: یَا لَہَا مِنْ مُصِیْبَۃٍ، مَا أَصَبْنَا بَعْدَہَا بِمُصِیْبَۃٍ إِلَّا ہَانَتْ، إِذَا ذَکَرْنَا مُصِیْبَتَنَابِہِ۔ ہائے یہ صدمہ ومصیبت، اس کے سامنے تو ہرمصیبت ہلکی ہوگئی، کوئی صدمہ اس کے سامنے صدمہ نہ رہا۔(سیرت ابن کثیر:۴/۵۳۸)حضرت بلالؓ: یارائے ضبط نہ رہا آقا صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کے بعد صبح ہوتی ہے، حضرت بلال فجر کی اذان کے لئے کھڑے ہوتے ہیں ، اَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللّٰہِ پر پہنچتے ہیں تو جذبات بے قابو ہوجاتے ہیں ، ضبط کا یارا نہیں رہتا، چیخ نکل جاتی ہے۔(نبی رحمت:۵۵۰)تاریخ انسانی کے سب سے تاب ناک دور کا خاتمہ اس طرح تاریخ انسانی کا سب سے تاب ناک دور ختم ہوگیا ہے، روضۂ رسول صلی اللہ علیہ و سلم آج بھی ہے، عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم دھڑکتے دل، لرزتے پاؤں اور برستی آنکھوں کے ساتھ تب سے اب تک وہاں حاضر ہوتے ہیں ، سکینت واحترام کا مقدس ہالہ سب کو احاطے میں لئے رہتا ہے، یہ وہی مقام ہے ؎ ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر نفس گم کردہ می آید جنید وبا یزید ایں جا