بیانات سیرت نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم |
|
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُہْلِکَتْ عَادٌ بِالدَّبُوْرِ۔(بخاری: المغازی: باب غزوۃ الخندق) اللہ نے پروا ہوا کے ذریعہ میری مدد کی ہے اور پچھوا ہوا کے ذریعہ قوم عاد کو تباہ کیا گیا ہے۔ یہ فرماکر آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسجد نبوی کی طرف واپس ہوئے ہیں ، زبان پر یہ کلمات ہیں : لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہُ نَصَرَ عَبْدَہُ وَہَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَہُ۔ (بخاری: المغازی: باب غزوۃ الخندق) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اللہ نے اپنے بندے کی مدد کی اور تن تنہا تمام دشمنوں کو شکست دی۔غزوہ خندق کاپیغام آج کی امت کے نام غور فرمایا جائے : جنگ خندق میں یہود ومشرکین ومنافقین تینوں باطل طاقتیں اسلام کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر جمع تھیں ، اور ان کو یہودی دماغوں نے یکجا کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بے مثال جرأت وہمت، بے نظیر تدبر وحکمت اور جوش وہوش دونوں کے توازن کے ساتھ یہ معرکہ سر کیا تھا، آج بھی عالمی سطح پر امت مسلمہ کی صورتِ حال یہ ہے کہ یہود ونصاریٰ اور مشرکین تینوں باطل قوتیں اسلام کے خلاف متحد ہیں ، اور ان کی قیادت شاطر یہودی دماغ کررہے ہیں ، گویا دوسرے لفظوں میں مسلمانوں کے سامنے غزوۂ احزاب والے حالات ہیں ، اور قرآنی صراحت کے مطابق ’’مِنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْکُم‘‘ اوپر اور نیچے ہر طرف سے دشمن تاک میں ہے، حالات پرخطر ہیں ، آزمائش کا موقع ہے، ان حالات میں مسلمانوں کو اسوۂ